نائجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسندوں کا خونریز حملہ، 7 فوجیوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک
نائجیریا میں شدت پسندوں کا حملہ
ابوجا(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے سرحدی علاقے کے ایک گاؤں دارل جمال میں شدت پسندوں کی ایک وحشیانہ کارروائی میں 53 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست بھارت سے کس رہنما نے کی تھی؟ امریکی ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر کا تہلکہ خیز انکشاف
حملے کی تفصیلات
غیر ملکی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے گاؤں میں داخل ہو کر بے رحمی سے فائرنگ کی اور کئی مکانات کو آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرضہ لیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
ضائع شدہ املاک
شدت پسندوں نے 20 سے زائد مکانات اور 10 بسوں کو بھی تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں افراتفری اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف شہروں میں مزید بارش اور برفباری، موسم دلفریب
مقامی آبادی کی حالت
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دارل جمال کے مکین جو طویل عرصے تک بے گھر ہو چکے تھے حالیہ چند مہینوں میں اپنے گاؤں واپس آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمّر کی الیکٹرک SUV سمیت لاہور آٹو شو میں شامل منفرد ترین گاڑیاں
معاشی اثرات
مقامی افراد کے مطابق یہ حملہ اتنی شدت سے ہوا کہ اس نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو نقصان پہنچایا بلکہ علاقے کی معیشت اور روزمرہ کی زندگی بھی بری طرح متاثر کی۔
یہ بھی پڑھیں: بولی وڈ اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا، منیجر کی تصدیق
حکومت کا ردعمل
نائجیریا کی فوج نے اس حملے کے بعد اعلان کیا کہ دہشت گرد تنظیموں، بشمول بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، لیکن اس حملے نے حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تشویش ناک صورتحال
نائجیریا میں شدت پسند گروہ خاص طور پر بوکو حرام اور اس سے جڑے گروہ طویل عرصے سے ریاست کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں تو کی جا رہی ہیں، تاہم شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آنے کے بجائے مزید شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔








