نائجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسندوں کا خونریز حملہ، 7 فوجیوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک
نائجیریا میں شدت پسندوں کا حملہ
ابوجا(ڈیلی پاکستان آن لائن) نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے سرحدی علاقے کے ایک گاؤں دارل جمال میں شدت پسندوں کی ایک وحشیانہ کارروائی میں 53 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وطن کی حفاظت کیلئے پرعزم ہیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا
حملے کی تفصیلات
غیر ملکی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے گاؤں میں داخل ہو کر بے رحمی سے فائرنگ کی اور کئی مکانات کو آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں جامع اسٹروک یونٹ کے قیام کے لیے پیشنٹس ایڈ فاؤنڈیشن کا دوسرا گالف ٹورنامنٹ
ضائع شدہ املاک
شدت پسندوں نے 20 سے زائد مکانات اور 10 بسوں کو بھی تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں افراتفری اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں قتل 8 پاکستانیوں کی تصدیق شدہ فہرست جاری کردی گئی
مقامی آبادی کی حالت
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دارل جمال کے مکین جو طویل عرصے تک بے گھر ہو چکے تھے حالیہ چند مہینوں میں اپنے گاؤں واپس آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین کے وزیر انصاف معطل
معاشی اثرات
مقامی افراد کے مطابق یہ حملہ اتنی شدت سے ہوا کہ اس نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو نقصان پہنچایا بلکہ علاقے کی معیشت اور روزمرہ کی زندگی بھی بری طرح متاثر کی۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مسافر بس کو حادثہ، کم از کم 2 مسافر جاں بحق
حکومت کا ردعمل
نائجیریا کی فوج نے اس حملے کے بعد اعلان کیا کہ دہشت گرد تنظیموں، بشمول بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، لیکن اس حملے نے حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تشویش ناک صورتحال
نائجیریا میں شدت پسند گروہ خاص طور پر بوکو حرام اور اس سے جڑے گروہ طویل عرصے سے ریاست کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں تو کی جا رہی ہیں، تاہم شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آنے کے بجائے مزید شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔








