امریکہ نے چیچن مسلمانوں کے قتل عام، فلسطینی اور بوسنیائی باشندوں اور ہندوستان کے ظلم و ستم کا شکار مظلوم کشمیریوں کیلئے ہمدردی کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا؟
مصنف کی معلومات
مصنف: Rana Amir Ahmad Khan
قسط: 150
تاریخ: 8 ستمبر 1996
مقام: لاہور
یہ بھی پڑھیں: ایک کال کریں، پودا اپنے گھر لگوائیں
قرارداد کا پس منظر
قرارداد رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ بابت عراق کے دفاعی ٹھکانوں پر امریکی جارحیت کی مذمت
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر سید محمد رضا زیدی انتقال کر گئے
متن قرارداد
حال ہی میں امریکہ نے عراق کے دفاعی ٹھکانوں پر میزائلوں سے بھرپور حملہ کیا ہے۔ عراق پر امریکہ کی اس ننگی جارحیت کو چند امریکی اتحادی ملکوں کے علاوہ دنیا بھر کے امن پسند ممالک اور بین الاقوامی برادری نے امریکی دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔ کوئی بھی قانون امریکہ کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ملک پر حملہ کرے۔ امریکہ نے بلاجواز عراق پر اپنی جارحیت مسلط کی ہے اور اس حملے سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کی تیاری دیکھ کر لگتا ہے انہیں 2 مہینے پہلے سے سب معلوم تھا: نادیہ خان
حملے کا جواز
امریکہ نے اس حملے کا یہ بھونڈا جواز پیش کیا ہے کہ عراق نے ملک کے شمال میں کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ کو عراقی کردوں کے ساتھ اچانک ہمدردی کیوں پیدا ہوئی؟ امریکہ کی یہ ہمدردی چیچن مسلمانوں، فلسطینیوں، بوسنیائی باشندوں، اور کشمیریوں کے ساتھ کیوں نہیں ہے، جن کی حالت زار پر وہ خاموش ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی باہر آئے تو عمران خان کی ہدایات پر ہی عمل کریں گے، سلمان اکرم راجا
امریکی مفادات
در حقیقت، امریکہ کا مقصد عراق کو کمزور کرنا اور اسرائیلی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔ امریکہ ان تمام اسلامی ممالک کو کمزور کرنا چاہتا ہے جو اس کے نیو ورلڈ آرڈر کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایران، عراق اور لیبیا جیسے ملکوں کو دہشت گرد قرار دینا اور خود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد بننا ایک تضاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک شخص قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکا، یہ واضح ہے جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا : ڈی جی آئی ایس پی آر
ہماری اپیل
لہذا ہم، اراکین لاہور ہائی کورٹ بار، عراق پر امریکی حملے کو بین الاقوامی دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ہم حکومت پاکستان، عالم اسلام اور اسلامک کانفرنس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس موقع پر امریکی جارحیت کے خلاف مکمل یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت تنازعہ ہمارا مسئلہ نہیں، جنگ کے بیچ میں نہیں پڑیں گے، امریکی نائب صدر نے واضح کر دیا
اقوام متحدہ سے درخواست
ہم اقوام متحدہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ عراق پر امریکی حملے کا فوری نوٹس لے کر اس کی مذمت کرے۔
بے نظیر حکومت کے خلاف اپیل
ہم 214 وکلاء لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے صدر پاکستان فاروق احمد لغاری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بے نظیر حکومت کو فوری طور پر برطرف کریں تاکہ ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نجات مل سکے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








