نیب نے بیڑا غرق کر دیا، ڈرنے والا افسر اپنا تبادلہ کرا لے: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب نے بیڑا غرق کر دیا، ڈرنے والا افسر اپنا تبادلہ کرا لے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر صحافی عمران شفقت کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی
متاثرین کی درخواست پر سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شاہ اللہ دتہ اور سیکٹر سی 13 کے متاثرین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام سے متاثرین کی مکمل تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: سعد رفیق نے این اے 129 لاہور کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے سے معذرت کی
نیب کے خلاف سخت الفاظ
دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کر دیا، سیاسی انتقام کو چھوڑ کر بھی نیب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نیب کے کہنے پر مت چلیں، کسی سے مت ڈریں، لوگوں کو مدد کریں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں فضائی معیار میں بتدریج بہتری، اے کیو آئی 160 ریکارڈ، سموگ کی مجموعی صورتحال میں نمایاں کمی
افسران کی ہمت
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی جج، پولیس افسر یا سی ڈی اے ملازم جو بھی ڈرتا ہے وہ اپنا تبادلہ کرا لے لیکن اپنا کام کرتے ہوئے ڈر نہ لگے۔ غلطیوں کی سزا نہیں ہوتی، بے ایمانی کی سزا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مردانگی کا بحران اور سماجی اثرات: بے اولادی کی وجوہات کیا ہیں؟
سول رائٹس کا خیال
جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح کیا کہ سول رائٹس، نیب اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور یہ اکیلے آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اگر آپ اپنا صحیح طرح کام کریں تو سی ڈی اے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید پر چارج شیٹ فوج کا اندرونی معاملہ ہے، پی ٹی آئی کا رد عمل
متاثرین کا ذکر
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جو متاثرین ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے، ان کے نام چیزیں ٹرانسفر ہو گئی ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر ایک ہی شخص کو لگا رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کی شاندار کامیابی پر اظہار تشکر
ڈی سی کے تقرر کا معاملہ
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے ہر سیکٹر میں ڈی سی ہونا چاہیے، لیکن عدالتی حکم نہ ماننے والے شخص نے ڈی سی ہٹا کر پانچ ڈی سی رکھے۔
سی ڈی اے کو ہدایت
عدالت نے ہدایت دی کہ سی ڈی اے حکام ایک ماہ میں متاثرین کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ ان کے مسائل کا مناسب حل نکالا جا سکے۔








