نیب نے بیڑا غرق کر دیا، ڈرنے والا افسر اپنا تبادلہ کرا لے: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب نے بیڑا غرق کر دیا، ڈرنے والا افسر اپنا تبادلہ کرا لے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی کیپٹن محمد علی قریشی شہید کے گھر آمد، اہل خانہ سے ملاقات اور اظہارِ تعزیت
متاثرین کی درخواست پر سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شاہ اللہ دتہ اور سیکٹر سی 13 کے متاثرین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام سے متاثرین کی مکمل تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، انڈیا نے ساڑھے 4 اوورز میں ہدف پورا کرلیا، امارات کو 9 وکٹوں سے شکست
نیب کے خلاف سخت الفاظ
دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب نے پہلے ہی بیڑا غرق کر دیا، سیاسی انتقام کو چھوڑ کر بھی نیب کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نیب کے کہنے پر مت چلیں، کسی سے مت ڈریں، لوگوں کو مدد کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کا حصہ بننا شاندار تجربہ ہے: ڈیون کونوے
افسران کی ہمت
انہوں نے مزید کہا ہے کہ کوئی بھی جج، پولیس افسر یا سی ڈی اے ملازم جو بھی ڈرتا ہے وہ اپنا تبادلہ کرا لے لیکن اپنا کام کرتے ہوئے ڈر نہ لگے۔ غلطیوں کی سزا نہیں ہوتی، بے ایمانی کی سزا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی پر ایرانی شہریوں کا سڑکوں پر جشن، افواج کے حق میں نعرے
سول رائٹس کا خیال
جسٹس محسن اختر کیانی نے واضح کیا کہ سول رائٹس، نیب اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور یہ اکیلے آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اگر آپ اپنا صحیح طرح کام کریں تو سی ڈی اے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پولیس اور باغیوں کے درمیان جھڑپ، 11 افراد ہلاک
متاثرین کا ذکر
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جو متاثرین ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے، ان کے نام چیزیں ٹرانسفر ہو گئی ہیں۔ عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر ایک ہی شخص کو لگا رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سارہ چودھری کا شوبز کیریئر کے آغاز میں نامناسب آفرز موصول ہونے کا انکشاف
ڈی سی کے تقرر کا معاملہ
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے ہر سیکٹر میں ڈی سی ہونا چاہیے، لیکن عدالتی حکم نہ ماننے والے شخص نے ڈی سی ہٹا کر پانچ ڈی سی رکھے۔
سی ڈی اے کو ہدایت
عدالت نے ہدایت دی کہ سی ڈی اے حکام ایک ماہ میں متاثرین کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ ان کے مسائل کا مناسب حل نکالا جا سکے۔








