وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کے لیے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے بجلی بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز 8 روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئیں
بجلی بلوں پر ٹیکسز کا خاتمہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج، فکس چارجز ختم کرنے پر غور جاری ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی بھی تجویز ہے۔ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس، مزید اور فاضل ٹیکس، ریٹیلر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم نامہ جاری
وفاقی وزیر کا بیان
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز کے خاتمے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر سیلاب متاثرین کے ٹیکس معاف کئے جائیں گے، بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی، جبکہ لینڈ ریونیو صوبائی حکومت معاف کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ ہر میچ میں پرفارمنس کی توقع رکھتے ہیں، ہم روبوٹ نہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، حارث رؤوف
سیلاب زدہ علاقوں کا جائزہ
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیں گے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے دن گنے جا چکے، فیصلہ بھارتی عوام کریں گے : خواجہ آصف
کسان پیکیج کا اعلان
حکومت نے فصلوں اور جانوروں کے نقصان کے ازالے کے لیے کسان پیکیج لانے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل طیارے کے آپریشن سندور میں استعمال ہونے سے متعلق کمپنی کے سی ای او نے کوئی بیان نہیں دیا، فرانسیسی دفاعی کمپنی ڈسالٹ ایو ایشن۔
سروے کی پیش رفت
انہوں نے کہا کہ ہفتے 10 روز تک سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کر لیا جائے گا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصان کا ابتدائی ڈیٹا بھی مرتب کر لیا گیا۔
نقصان کا تخمینہ
وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ سیلاب سے ہر فصل کا ایک سے 3 فیصد تک نقصان ہو چکا ہے۔ سیلاب کے دوران فصلوں میں سے چاول کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جبکہ سب سے زیادہ گوجرانوالہ ڈویژن میں فصلوں کا 18 فیصد تک نقصان ہوا۔








