ریورس فائلنگ کا طریقہ کار نہ ہونے پر انڈسٹری پریشان، بغیر مشاورت سسٹم لاگو کرنا ناقابل قبول ہے، احمد عظیم علوی
ای انوائسنگ سسٹم پر تحفظات
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر احمد عظیم علوی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ای انوائسنگ سسٹم کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال، ملکی ترسیلات میں اضافے کا سلسلہ جاری
مشاورت کا فقدان
انہوں نے کہا کہ ای انوائسنگ سسٹم کے نفاذ سے قبل نہ تو اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی آگاہی کے لیے کوئی سیشنز منعقد کیے گئے، جس کے باعث ٹیکس دہندگان کو عملی سطح پر شدید مسائل اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کا 8 خارجیوں کیخلاف کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
ای فائلنگ کی پیچیدگیاں
ان کا کہنا تھا کہ ای فائلنگ میں پیچیدگیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ متعدد کاروباری ادارے مقررہ وقت میں اپنی فائلنگ مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جو زمینی حقائق کے برعکس اور ناقابل عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو علیحدہ ہوتے دیکھا، صدر آصف علی زرداری
تجاویز اور مطالبات
صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے اور سسٹم کو مؤثر، سادہ اور قابل فہم بنانے کے لیے صنعتکار برادری سے سنجیدہ مشاورت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ سے جھگڑا: ایلون مسک کو صرف ایک دن میں 27 ارب ڈالر کا جھٹکا
مال کی واپسی کا مسئلہ
ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں مال کی واپسی ایک معمول کی کارروائی ہے، تاہم ریورس فائلنگ کا کوئی واضح اور جامع طریقہ کار موجود نہیں۔ بعض اوقات مکمل، کبھی جزوی، اور کبھی تاخیر سے مال واپس آتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں پر تکنیکی اور قانونی وضاحت ضروری ہے تاکہ سسٹم مؤثر اور قابل عمل ہو۔
وزیر خزانہ کی اپیل
احمد عظیم علوی نے وزیر خزانہ اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ کاروباری طبقے کو مزید مشکلات سے بچایا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو کاروبار میں آسانیاں پیدا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر اپنی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق بہتر بنائے اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھے، تو یہ نظام نہ صرف قابل قبول ہو سکتا ہے بلکہ کامیابی سے ہمکنار بھی ہو سکتا ہے۔








