بہت سے مسائل کا حل بااختیار مقامی حکومتوں میں ہے، حکمران یہ نقطہ آج سمجھ جائیں یا کل ان کی فہم ہے، مقامی مسائل کا حل مقامی سطح پر ہی ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 284
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کا افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان
تربیت کے آغاز اور اختتام
تربیت کے آغاز اور اختتام پر ان نمائندوں کا ٹیسٹ لیا جاتا تھا۔ ان کونسلرز کے ساتھ ساتھ خود تربیت دینے والوں کا بھی امتحان ہی تھا۔ آنے والے دنوں میں بھی نو منتخب افراد کے تربیتی پروگرام مرتب کئے گئے لیکن وہ بس خانہ پوری سے زیادہ کچھ نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا یوسف کے قاتل کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کتنی سی سی ٹی وی ویڈیوز جمع کیں اور کتنی فون کالز کا تجزیہ کیا؟ آئی جی اسلام آباد کے اہم انکشافات
منتخب نمائندوں کی تربیت
میری اور عارف طفیل کی جوڑی نے تحصیل نوشہرہ، گوجرانوالہ صدر اور فیروزوالا کی پانچ پانچ یونین کونسلوں میں تربیت کے فرائض سر انجام دئیے تھے۔ ہمارا اپنا motivational level بہت ہائی تھا۔ ہمیں بھی شاندار انداز میں سکھایا گیا تھا جبکہ ہم نے بھی بڑے دل اور خلوص سے اپنے شرکاء کی تربیت کی تھی۔ مجھے آج بھی یقین ہے کہ ہمارے بہت سے مقامی مسائل کا حل بااختیار مقامی حکومتوں کے اداروں میں ہے۔ جتنے یہ ادارے بااختیار ہوں گے عوام کو اتنی بہتر سہولیات حاصل کر پائیں گے۔ حکمران یہ نقطہ آج سمجھ جائیں یا کل۔ان کی فہم ہے۔ مقامی مسائل کا حل مقامی سطح پر ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اقتدار بدر ہونے کے بعد سے اب تک مسلسل غلط پتّے چل رہے ہیں: عرفان صدیقی کھل کر بول پڑے
شرکاء کا جذبہ
ان نو منتخب کونسلروں کا جذبہ بھی دیدنی تھا۔ دوران تربیت ہمارا بہت سے اچھے اور کامیاب لوگوں سے واسطہ رہا۔ جن میں رؤف چٹھہ صاحب، اور انہی کی یونین کونسل کی رسول بی بی شامل ہیں۔ رسول بی بی ایک خالصتاً دیہاتی عورت تھیں جنہوں نے دودھ مکھن کی پلی بن کر ہمیں اپنی دیہاتی ثقافت کا احساس دلایا۔ دیہاتی حسن کے اس مجسمے میں جتنی کشش تھی اتنی ہی بے باکی بھی۔ روز یہ ہمارے لئے خالص دودھ لاتی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سے بلوچستان جانے والے افراد کی شناخت جو جان کے لیے خطرہ بن گئی
دیگر رفقاء
دوران تربیت رانا نعیم الرحمان، جو بعد میں پی ٹی آئی گوجرانوالہ کے ضلعی صدر بنے، اور ان کی بیگم جو پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر ایم پی اے رہیں، ہمارے اہم رفقاء میں شامل تھے۔ بھیڑ چال کے کمزور اثرات کی وجہ سے میں نے ان معصوم لوگوں کو صرف یہ باور کرایا کہ اگر اس تربیت کے آخر میں لئے گئے ٹیسٹ میں فیل ہوئے تو کونسلر شپ بھی جائے گی۔ یہ بات ان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ ؛سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
میزبانی اور ثقافتی اثرات
دوران تربیت ہمارا قیام مقامی یونین کونسل میں ہی ہوتا تھا۔ منتخب ناظم میزبانی کرتے۔ ہماری دیہاتی ثقافت میں مہمان نوازی آج بھی ہماری پہچان ہے۔ رسول نگر میں ہمارے ایک کونسلر کا فرائی مچھلی کا ڈھابہ تھا جہاں مختلف اقسام کی لذیز فرائی مچھلی کا دعوت منعقد ہوا۔ یقین کریں ہم بشیر دالماہی اور سردار مچھلی بھول ہی گئے تھے۔ شرکاء کو کھانا متعلقہ یونین کونسل کی طرف سے فراہم کیا جاتا تھا جو عموماً پرتکلف ہوتا۔ شام کی چائے کا بھی بندوبست ہوتا جبکہ تربیت دینے والوں کو بھی معقول مشاہیر ملتا تھا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








