شوگر ملز مالکان نے ناجائز منافع خوری کے لیے کراچی میں چینی کی سپلائی بند کردی
کراچی میں چینی کی سپلائی بند
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) شوگر ملز مالکان نے ناجائز منافع خوری کےلیے من مانی کرتے ہوئے کراچی میں چینی کی سپلائی بند کردی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق منگل سے شوگر ملز مالکان نے شہر کی تھوک مارکیٹوں میں چینی کی ترسیل معطل کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ، لاہور اور کراچی سمیت ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ جاری
چینی کی قیمتوں میں اضافہ
اس معاملے پر ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین روف ابراہیم نے بتایا کہ پیر 8 ستمبر تک ہول سیل مارکیٹ میں فی کلو ایکس مل چینی کی قیمت 175 روپے تھی جبکہ فی کلو چینی کی تھوک قیمت 179 روپے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں سکیورٹی فورسز کا مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن، کالعدم تنظیم کا انتہائی مطلوب کمانڈر مارا گیا
باہر کی درآمدات میں تاخیر
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے چینی کی درآمدی کنسائمنٹ پاکستان پہنچنے میں کم از کم تین ہفتے کا وقت درکار ہے لیکن شوگر ملز مالکان نے مصنوعی بحران پیدا کرکے مہنگے داموں اپنے چینی کے ذخائر کرنے کی غرض سے تھوک مارکیٹ میں چینی کی سپلائی جان بوجھ کر بند کردی ہے جس کے سبب کراچی کی تھوک مارکیٹوں میں اس وقت چینی فروخت کرنے کا کوئی دام مقرر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا سپر ایٹ مرحلے میں اہم مقابلہ، کولمبو میں بارش کا خطرہ، میچ متاثر ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟
قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
تاجر رہنما رؤف ابراہیم کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں سپلائی کی بندش سے چینی کی فی کلوگرام قیمتوں میں یکدم اضافے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
حکومت سے اپیل
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے شوگر ملز مالکان کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کرکے چینی کی سپلائی کو بحال کروائے تاکہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جاسکے۔








