بچے کے نام پر اتفاق نہ ہونے پر والدین نے طلاق کا مقدمہ دائر کردیا

شنگھائی میں انوکھا مقدمہ

چین کے صوبہ شنگھائی میں ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا جہاں ایک جوڑے نے بچے کے خاندانی نام (surname) پر اتفاق نہ ہونے کے باعث عدالت میں طلاق کا کیس دائر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آج کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات

شوہر اور بیوی کے مؤقف

تفصیلات کے مطابق شوہر کا مطالبہ تھا کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے جیسا کہ چین میں صدیوں سے روایت رہی ہے۔ بیوی چاہتی تھی کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے تاکہ عورت کے خاندان کی شناخت بھی آگے بڑھے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن والے پہلے کہتے تھے کہ قاسم اور سلمان کہاں ہیں، اب پاکستان آنے کا فیصلہ کیا توکہتے ہیں وہ کیوں آ رہے ہیں؟حامد میر

عدالت کا فیصلہ

دونوں فریق اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور صلح نہ ہو سکی جس کے بعد طلاق کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ شنگھائی کی عدالت نے ماں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بچوں کی کفالت ماں کو دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کی جانب مارچ، بھارتی کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی اور پریانگا گاندھی سمیت دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا

بچے کے مفاد کی اہمیت

فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کے بہتر مفاد اور پرورش کو مدِنظر رکھنا والدین کی انا سے زیادہ اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 76 تک پہنچ گئی، 42لاکھ سے زائد افراد متاثر

ثقافتی تبدیلیاں

اگرچہ چین میں روایتی طور پر بچوں کا خاندانی نام ہمیشہ والد کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ جوڑے بچوں کو ماں کا خاندانی نام دینے لگے ہیں، خاص طور پر دوسری یا تیسری اولاد کے ساتھ۔

ماہرین کے خیالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی چین میں خاندانی نظام اور صنفی برابری کی بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاس ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...