سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملوں کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کی مذمت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سول ڈیفنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے 500 ملین روپے کے فنڈز جاری
پاکستان کا مطالبہ اور ہنگامی اجلاس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کے مطالبے پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مذمتی بیان برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا اور یہ بیان تمام 15 اراکین، بشمول اسرائیل کے اتحادی امریکا کی منظوری سے جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 19 اضلاع میں سفر کو باعزت اور پرسکون بنانے کے لیے جدید بس شیلٹرز بنانے کا فیصلہ
قطر کی خود مختاری کی حمایت
بیان میں سلامتی کونسل نے قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی اور غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کو اولین ترجیح رکھنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں ایسا ہی تھا۔کھرا، سچا اور کچھ اکھڑ، کچھ بیوقوف،لفافہ دینے کی کوشش میں خوب بے عزتی کرائی”تمھیں کوئی غلط فہمی ہے کہ یہ سب کچھ پیسے کیلئے تھا“
امریکا کا موقف
واضح رہے کہ امریکا عام طور پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کا تحفظ کرتا ہے لیکن اس بار سلامتی کونسل کے بیان کی حمایت سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حملے پر ناراضگی ظاہر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فائز عیسیٰ کے خلاف لندن میں پی ٹی آئی کا احتجاج: ‘حملہ آوروں کے شناختی کارڈ بلاک اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا اعلان’
پاکستان کا اعتراض
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیلی حملے کو یو این چارٹر اور قطر کی سلامتی کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے صرف قطر نہیں بلکہ عالمی امن کو نقصان پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا مستقبل میں بجلی کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ، سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان
حملے کی تفصیلات
اسرائیل نے منگل کے روز کیے گئے حملے میں حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا تھا، اس حملے میں سینئر حماس رہنما خلیل الحیا کے بیٹے، ان کے دفتر کے ڈائریکٹر سمیت 6 افراد شہید ہوئے، تاہم اس حملے میں حماس کی قیادت محفوظ رہی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا بزدلانہ حملہ: پاکستانی ایئرسپیس بند، تمام پروازیں منسوخ، نوٹم جاری
امریکا کا ایک طرفہ اقدام قرار
دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکا نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اقدام کو یکطرفہ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا حضرموت پر دوبارہ کنٹرول بحال کرنے کا اعلان
قطری وزیراعظم کا ردعمل
قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ پر اسرائیلی حملہ کو سفارتکاری کی توہین اور امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کرکے سفارتکاری کی توہین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالفور اعلامیہ: سادہ کاغذ پر لکھے 67 الفاظ نے مشرق وسطی کی تاریخ کو کیسے بدل ڈالا؟
قطر کی سفارتی کوششیں
انہوں نے سلامتی کونسل کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی شیخ صالح الفوزان کو سعودی عرب کا مفتی اعظم بننے پر مبارکباد
خونریزی کے خاتمے کے لیے عزم
انہوں نے واضح کیا کہ وہ خونریزی روکنے کے لیے اپنے انسانی اور سفارتی کردار کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: ضلع دکی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک
امریکی ٹی وی پر انٹرویو
اس سے قبل قطر کے وزیراعظم نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیلی حملے نے یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: یش چوپڑا: بالی وڈ کے ‘کنگ آف رومانس’ جو ایک وقت میں پیٹرول بم بناتے تھے
امریکا کی مذمت
امریکا نے قطر پر اسرائیلی حملوں کی مضحکہ خیز انداز میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر پر حملہ افسوس ناک ہے لیکن حماس کا پیچھا کرنا جائز ہدف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی خاتون اول کا کانسی کا مجسمہ پراسرار طور پر غائب ہوگیا
امرییکا کی حمایت
امریکا کی سفیر ڈوروتھی شیا نے اسرائیل کے حماس کے تعاقب میں کیے گئے حملوں کی حمایت کی اور حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
حماس کے خلاف کارروائیاں جائز
امریکی سفیر نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ حماس کا پیچھا کرنا ایک جائز اور اہم ہدف ہے جس کی حمایت کرتے ہیں۔








