برازیل کے سابق صدر مجرم قرار، 27 سال قید کی سزا کا اعلان
برازیل کی سپریم کورٹ کا فیصلہ
براسیلیا(ڈیلی پاکستان آن لائن) برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر بولسونارو کو بغاوت کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا بھی سنادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ
فیصلہ کی تفصیلات
برازیلین سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے چار ججز نے سزا کے حق میں فیصلہ سنایا جبکہ ایک جج نے انہیں تمام الزامات سے بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جیسا خیال کیا جا رہا تھا، کمشنر ایک ایک اپیل بڑے غور سے سنتے، اپیل کنندہ کو پورا موقع دیتے پھر اعتراضات پر متعلقہ ڈی سی او اپنا مؤقف بیان کرتا
بولسونارو کی عدم موجودگی
گھر میں نظر بند سابق صدر بولسونارو عدالت میں پیش نہیں ہوئے، بولسونارو کے وکیل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز ٹرانسفر کیس؛9میں سے 5انٹراکورٹ اپیلیں عدم پیروی پر خارج،بانی سے وکیل کی ملاقات کی درخواست بھی مسترد
فل کورٹ کا مطالبہ
کیس کی سماعت کیلئے 11 ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ کیوں کیا۔۔۔؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا مؤقف بھی آ گیا
امریکی صدر کی رائے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کے سابق صدر بولسونارو کی سزا مایوس کن قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ برازیلین سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر متوقع ہے۔
مظاہرے
دوسری جانب عدالتی فیصلہ کے بعد سابق برازیلین صدر بولسونارو کے حق میں برازیل کے متعدد شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔








