بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ پاکستان نے فیصلہ دیا ہے کہ بیوی کے حق نان نفقے کے لیے رُخصتی یا ازدواجی تعلق ضروری نہیں بلکہ نکاح کے بندھن میں بندھنے کے ساتھ ہی شوہر پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بیوی کے نان نفقے کا بندوست کرے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، علی بخاری، شعیب شاہین بری

فیصلے کی تفصیلات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رُکنی بینچ نے درخواست گزار عنبرین فاطمہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

پندرہ صفحات پر مشتمل سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر پر نان نفقہ اُسی وقت لازم ہو جاتا ہے جب نکاح کے دوران وہ ’’ہاں‘‘ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی، کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے میل نرس نے 10 مریضوں کو غلط انجیکشن لگا کر موت کی نیند سلا دی، سزا سنادی گئی

نان نفقے کی اہمیت

فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر کو نان نفقے سے صرف اسی صورت مبرا قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ یہ ثابت کرے کہ بیوی کو بغیر کسی جواز کے اُس سے دُور کیا گیا ہو یا بیوی نے بغیر کسی وجہ سے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے انکار کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی پاسداران انقلاب کا 24 گھنٹوں کے دوران 4 امریکی میزائل شک دفاعی ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ

اہم سوالات

یہ بھی کہا گیا کہ یہ مقدمہ اسلامی قانون، آئینی حقوق اور سماجی حقائق کے درمیان دو بنیادی سوالات اٹھاتا ہے، ایک مسلمان عورت شادی کے اندر کب نفقہ کی حقدار بنتی ہے اور کن حالات میں مرد کو اپنی بیوی کو خرچہ دینے سے چھوٹ دی جا سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی؛ پاکستان کے 6ایئرپورٹس سے 52پروازیں منسوخ

درخواست گزار کا پس منظر

درخواست گزار عنبرین فاطمہ کی اسد اللہ نامی شخص سے نومبر سنہ 2012 میں شادی ہوئی تھی تاہم مصدقہ نکاح نامے کے باوجود اسد اللہ نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک رُخصتی نہیں لی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم کی ضمانت منظور

کانونی جنگ

یادر ہے کہ عنبرین فاطمہ نے 2013 میں نان نفقے کیلئے درخواست دائر کی تھی،فیصل آباد کی فیملی کورٹ نے عنبرین فاطمہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسد اللہ کو انہیں ماہانہ تین ہزار روپے خرچہ دینے کا حکم دیا، بعدازاں ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ خرچہ بڑھا کر پانچ ہزار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے بیرسٹر گوہر اور ذاتی معالج معائنے کے دوران نہ آسکے اور ہماری معلومات کے مطابق علیمہ خان کی وجہ سے ایسا ہوا ،طارق فضل چودھری

طلاق اور ہائی کورٹ کا فیصلہ

اسد اللہ نے مئی 2014 میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ دونوں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تھا لہٰذا اسد اللہ اپنی بیوی کو نان نفقہ دینے کے پابند نہیں تھے۔

سپریم کورٹ کی تنقید

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...