ریاست جن کو دہشت گرد کہتی رہی، اب ان کو ادائیگیاں کریں گے: اسلام آباد ہائیکورٹ
اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ریاست جن کو دہشت گرد کہتی رہی اب ان کو ادائیگیاں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 9000 روپے کی نمایاں کمی
امدادی رقم کی ادائیگی کا سوال
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے لاپتہ شہری عمر عبداللہ کے والد سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو امدادی رقم ادا کر دی گئی ہے؟ جس پر لاپتہ شہری کے والد نے بتایا کہ ہمیں تاحال امداری رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کینال منصوبہ اگر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر احتجاج کیلئے نکلیں گے: وزیراعلیٰ سندھ
کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ
سیکرٹری گمشدہ افراد انکوائری کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جبری گمشدہ افراد کی فیملیز کو ادائیگی کیلئے سپیشل کمیٹی بنائی گئی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کمیٹی کس لیے بنائی گئی ہے؟ سیکرٹری کمیشن نے بتایا کہ کابینہ نے کمیٹی بنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: گندی بات: کم عمر لڑکیوں کو شہوت انگیز انداز میں پیش کرنے کے الزام میں فلم ساز ایکتا کپور کے خلاف مقدمہ درج
عدالت کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جبری گمشدہ افراد انکوائری کمیشن کی کوئی حیثیت نہیں، وہ کیوں بٹھایا ہوا ہے؟ اِس عدالت میں امداری رقم ادائیگی کا بیان دیئے دو ماہ گزر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی محکمہ ٹیکس نے حسن نواز کی دیوالیہ ہونے کی مدت ختم کردی
ادائیگی کے بجٹ کے بارے میں سوالات
عدالت کو نمائندہ وزارت دفاع نے آگاہ کیا کہ ہم نے معاملہ فائنل کر کے وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا تھا، ادائیگی انہوں نے کرنی ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا یہ پہلی فیملی ہو گی جس کو ادائیگی کی جائے گی؟ ایک کے ساتھ یہ حال ہو رہا ہے تو باقیوں کے ساتھ کیا ہو گا؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید استفسار کیا کہ حکومت پاکستان کے پاس اتنے لاپتہ افراد کو ادائیگی کیلئے بجٹ ہے؟ کیا آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر ادائیگیاں کی جائیں گی؟ آدھا پاکستان آج سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ کا فوجی بھائی یو اے ای میں گرفتار
فراہم کردہ رقوم پر تنقید
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو پراسیکیوٹ کرنا تھا اُن کو بچانے کیلئے ہم لوگوں کو پیسے دیں گے، جن مسنگ پرسنز کو پہلے دہشت گرد کہتے رہے اب ان کو پیسے دے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست جن کو دہشت گرد کہتی رہی اب ان کو ادائیگیاں کریں گی، عجیب بات ہے پہلے مسنگ پرسنز کو دہشت گرد کہو پھر ان کو پیسے دو، مسنگ پرسنز پیش نہ کرنے پڑیں بس کروڑوں روپے دے دو۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جنہیں دہشت گرد کہتے تھے اُنہیں گرفتار کرتے، ٹرائل کرواتے، سزائے موت کروا دیتے۔
سماعت کی آئندہ تاریخ
بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کر دی۔








