وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بنوں کا دورہ، 12 شہدا کے جنازے میں شرکت، افغانستان پر واضح کردیا کہ خارجیوں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کا بنوں کا دورہ
بنوں(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بنوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی سے متعلق ایک اہم اور اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 شہداء کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایس پی آر نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی صحت سے متعلق اپڈیٹ جاری کردی
دہشت گردی کے خلاف مضبوط موقف
وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کے سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں جبکہ ان کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ افغانستان کو دوٹوک پیغام دے دیا گیا ہے کہ پاکستان یا خارجیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بجٹ میں عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری،کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہونیکا امکان
افغان باشندوں کا انخلا
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے ملوث ہیں جو سرحد پار کر کے پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، لہٰذا غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل تنازع، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں ’’پہلی ترجیح‘‘ بتا دی
پاکستانی قوم کا عزم
وزیر اعظم نے زور دیا کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے۔ "جو بھی بھارت کی پراکسیوں اور خارجیوں کی سہولت کاری کرے گا، اُسے اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کی پراکسیوں کے خلاف مضبوط قلعے کی طرح کھڑے ہیں۔
مؤثر اقدامات کی ضرورت
دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کے لئے انتظامی اور قانونی فیصلے فوری طور پر کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں کے سی ایم ایچ اسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی جبکہ پشاور کور کمانڈر نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔








