پنجاب میں مون سون کے 11 ویں سپیل کا الرٹ جاری، 16 ستمبر سے بارشیں
پی ڈی ایم اے کا الرٹ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے گیارویں سپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ 12 ملکوں میں پھیل چکی، امریکہ کی ایک درجن سے زائد ممالک سے شہریوں کو فورا نکلنے کی ہدایت
حالیہ بارشیں اور نقصان
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 104 ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل سے مجیب الرحمان شامی اور حفیظ اللہ نیازی کی اہم ملاقات
مون سون بارشوں کا اگلا سپیل
پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے 11ویں سپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 16 سے 19 ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 24 سرکاری ادارے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا: وزیر خزانہ
طغیانی کا خدشہ
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث ندی، نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں بشارالاسد کا 24 سالہ اقتدار ختم، باغی گروہ کے سربراہ کا بیان بھی سامنے آگیا
شہریوں کے لیے ہدایات
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کا ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال پر اظہار افسوس
متاثرہ افراد کی تعداد
واضح رہے کہ شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 45 لاکھ 70 ہزار لوگ اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 50 سالہ فرحان علی آغا کی فٹنس دیکھ کر مداح حیران رہ گئے
ریلیف اور امدادی سرگرمیاں
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 25 لاکھ 12 ہزار لوگوں اور 20 لاکھ 19 ہزار سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، متاثرہ اضلاع میں 392 ریلیف کیمپس، 493 میڈیکل کیمپس اور 422 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خیبر پختونخوا پولیس کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت پر زور ، آئی ایس پی آر
ڈیم کی صورتحال
ریلیف کمشنر کے مطابق منگلا ڈیم 93 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے جبکہ بھارت میں دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 88 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم این اے ڈاکٹر نکہت شکیل بھی آن لائن فراڈ کا شکار، ہیکر نے واٹس ایپ ہیک کر کے رشتہ داروں اور دوستوں سے پیسے بٹور لیے
سیلاب کی تباہی
خیال رہے پاکستان میں 26 جون سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ اس دوران ملک کے زیادہ تر علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں جبکہ بادل پھٹنے کے واقعات بھی ہوئے، جن سے خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں تباہی ہوئی اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کا 37 واں اجلاس کل طلب، ایجنڈا جاری کر دیا گیا
راولپنڈی اور اسلام آباد میں متاثرہ علاقے
اسی طرح راولپنڈی اسلام آباد سمیت دوسرے پوٹھوہاری علاقوں میں بھی سیلاب اور لوگوں کے ڈوبنے کے واقعات رونما ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر پر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے وعدہ پورا کریں گے، بلاول بھٹو
حکومتی اقدامات
بعدازاں پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جبکہ انڈیا کی جانب سے بھی دریاؤں میں پانی چھوڑ دیا گیا جس سے انڈیا کی جانب سے پاکستان آنے والے دریاؤں میں شدید طغیانی پیدا ہوئی اور بڑے پیمانے پر علاقے ڈوب گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری کون تھے؟ کس کے بھائی تھے؟
تباہی کی صورت حال
لاہور سے گزرنے والے راوی کے کناروں پر بھی شدید تباہی دیکھنے کو ملی اور کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز ڈوب گئیں، جبکہ ستلج اور چناب میں بھی سیلابی کیفیت پیدا ہوئی جس سے کناروں کے قریب علاقے متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مون سون ہنگامی پلان پر عملدرآمد شروع، ہر فرد کی جان قیمتی ہے، تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
ریسکیو آپریشنز
اس وقت بھی پنجاب کے کئی علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور بڑی تعداد میں لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
خطرے کی گھنٹی
اس وقت سیلاب کا زور رحیم یار خان اور ملتان کی طرف ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔








