صحافیوں کے خلاف مقدمات کی درخواستیں، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا پنجاب اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان
ہنگامی اجلاس کا انعقاد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور پریس کلب میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں لاہور کے 6 سینئر کرائم رپورٹرز کے خلاف تھانہ ڈیفنس (سی بلاک) میں پیکا ایکٹ کے تحت دی گئی درخواستوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع کرک میں غیرقانونی کان کنی پر 60 روز کیلئے مکمل پابندی، دفعہ 144 نافذ
اہم فیصلے اور احتجاج کا اعلان
اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ لاہور پریس کلب میں صحافی تنظیموں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا۔ اس کے بعد پنجاب اسمبلی کے ہونے والے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جائے گا، لاہور پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا جائے گا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: رکی ہوئی زبان مشین کی طرح چلنے لگی، اس نے رٹے رٹائے الفاظ میں تاریخ بیان کرنا شروع کی، آگے بڑھے تو وہ عظیم ا لشان مگر مصنوعی پہاڑی نظر آئی
شرکاء اور قائدین
اجلاس میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر علی ساہی، جنرل سیکرٹری مجاہد شیخ، سینئر نائب صدر حماد اسلم، فنانس سیکرٹری عمریاقوب، جوائنٹ سیکرٹری سرفراز خان، اراکین گورننگ باڈی علی چوہدری، فراز نظام اور مرزا رمضان بیگ سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: فوجی ڈکٹیٹر کبھی بھی کسی عوامی لیڈر کا مقابلہ نہیں کر سکے یہی تاریخ کا سبق ہے، ملکی حالات نئی کروٹ لے چکے تھے، اس زمانے میں الیکشن کمیشن صرف نام کا ہی تھا۔
آزادی صحافت کا عزم
اجلاس میں صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ لاہور پولیس جتنے چاہے مقدمات درج کرلے، آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اس قسم کی جھوٹی درخواستوں سے ہمیں ڈرایا یا دھمکایا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ٹک ٹاکر کو ریل بنانے کیلئے بائیک اسٹنٹ اور چلتی بسوں کے دروازے کھولنا مہنگا پڑ گیا، ویڈیو وائرل
آئندہ اجلاس کی تفصیلات
ارشد انصاری نے کہا کہ 15 ستمبر دوپہر 2 بجے لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی ہال میں صحافی تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوگا جس میں پریس کلب کی گورننگ باڈی، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی، کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن، فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن، کیمرہ مین ایسوسی ایشن اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس (دستور) شرکت کریں گے۔
مقدمات اور تشدد کی مذمت
اجلاس میں شاہدرہ پولیس کی جانب سے تین صحافیوں کے خلاف درج مقدمے اور ان پر شدید تشدد کا نشانہ بنانے کی بھی پر زور مذمت کی گئی۔ شاہدرہ کے صحافی پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج میں بھی شریک ہوں گے۔








