راوی عبور کرنے کے بعد شاہدرہ جنکشن آتا ہے، لاہور سے سیالکوٹ ریلوے لائن تاریخی اہمیت کی حامل ہے، لاہور اور کراچی کے لیے بھی ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں۔
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 249
یہ بھی پڑھیں: کانوں کے پردے پھاڑ دینے والے انجنوں کی پاں پاں۔ ٹھکا ٹھک بدلتی پٹریاں اور دریا کا پل عبور کرتے وقت مدھر سی آواز کون فراموش کر سکتا ہے۔
لاہور۔ سیالکوٹ لائن
لاہور سے سیالکوٹ ریلوے لائن پاکستان کی ایک نہایت اہم اور تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ نہ صرف سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی جائے پیدائش کو جوڑتی ہے بلکہ اس کے راستے میں ایسی تاریخی جگہیں بھی آتی ہیں، جہاں بہادری کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔ یہ داستانیں پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ آئیں، ہم اس لائن پر سفر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پاک بھارت کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر متحرک ہے: عاصم افتخار
لائن کا راستہ
یہ لائن لاہور سے مشرق کی طرف نکلتی ہے اور تقریباً پاکستان-ہندوستان کی سرحد کے قریب سیالکوٹ شہر تک جاتی ہے۔ دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ تقریباً 108 کلومیٹر ہے۔ اس لائن پر نہ صرف مقامی پسنجر گاڑیاں چلتی ہیں بلکہ سیالکوٹ سے لاہور اور کراچی کے لیے ایکسپریس گاڑیاں بھی چلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بدلتے عالمی نظام میں مؤثر سٹریٹجک رہنما بن کر ابھرے ہیں: فنانشل ٹائمز
شاہدرہ جنکشن
لاہور سے سیالکوٹ کی جانب جانے کے دوران دریائے راوی کو عبور کرتے ہی شاہدرہ جنکشن آ جاتا ہے، جہاں سے سیالکوٹ کو جانے والی لائن نکلتی ہے۔ یہ لائن نارنگ منڈی اسٹیشن سے ہوتی ہوئی نارووال اسٹیشن پر جا رکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اتنے ننھے کاکا نہیں کہ گھر میں سب کچھ ہورہا ہو اور ان کا علم نہ ہو، عمران اسماعیل
نارووال
نارووال سیالکوٹ کا ایک بڑا اور جانا پہچانا قصبہ ہے، جو ایک ریلوے جنکشن بھی ہے۔ یہاں سے ایک گاڑی وزیرآباد کی طرف جاتی ہے۔ اسٹیشن کی نئی عمارت حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے اور اس میں دور جدید کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ یہ اسٹیشن مقامی مسافروں کے علاوہ سکھ یاتریوں کو گوردوارہ کرتار پور تک لے جانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ژوب: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 15 خوارج جہنم واصل
ثقافتی پہلو
نارووال اْردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کی جنم بھومی ہے، اور مشہور اداکار دیوآنند بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ نامور گلوکار ابرار الحق نے یہاں مفت طبی سہولیات کے لیے ایک جدید ہسپتال اور ایک میڈیکل کالج قائم کیا، جہاں پاکستان بھر سے ماہرین آتے ہیں۔
گوردوارہ کرتارپور صاحب
نارووال کے قریب سکھوں کا دوسرا مقدس ترین مقام، گوردوارہ کرتارپور صاحب ہے، جو پاکستان-ہندوستان کی سرحد سے صرف 4 کلومیٹر دور ہے۔ حکومتِ پاکستان نے یہاں دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنایا ہے، جس کے ذریعے سکھ یاتری عبادت اور زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








