راوی عبور کرنے کے بعد شاہدرہ جنکشن آتا ہے، لاہور سے سیالکوٹ ریلوے لائن تاریخی اہمیت کی حامل ہے، لاہور اور کراچی کے لیے بھی ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں۔
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 249
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ بڑی چیز ہے، پاکستان پر خطرات تو ہمیشہ سے رہے مگر اب مزید بڑھ گئے ہیں، اسد عمر
لاہور۔ سیالکوٹ لائن
لاہور سے سیالکوٹ ریلوے لائن پاکستان کی ایک نہایت اہم اور تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔ یہ نہ صرف سیالکوٹ جیسے صنعتی شہر اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی جائے پیدائش کو جوڑتی ہے بلکہ اس کے راستے میں ایسی تاریخی جگہیں بھی آتی ہیں، جہاں بہادری کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔ یہ داستانیں پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ آئیں، ہم اس لائن پر سفر کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم، نئی ترامیم کے ساتھ پیش
لائن کا راستہ
یہ لائن لاہور سے مشرق کی طرف نکلتی ہے اور تقریباً پاکستان-ہندوستان کی سرحد کے قریب سیالکوٹ شہر تک جاتی ہے۔ دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ تقریباً 108 کلومیٹر ہے۔ اس لائن پر نہ صرف مقامی پسنجر گاڑیاں چلتی ہیں بلکہ سیالکوٹ سے لاہور اور کراچی کے لیے ایکسپریس گاڑیاں بھی چلتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرک میں ایف سی قلعہ پر کوڈ کاپٹر سے حملہ، 7 اہلکار زخمی، زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر بھی فائرنگ، سرچ آپریشن شروع
شاہدرہ جنکشن
لاہور سے سیالکوٹ کی جانب جانے کے دوران دریائے راوی کو عبور کرتے ہی شاہدرہ جنکشن آ جاتا ہے، جہاں سے سیالکوٹ کو جانے والی لائن نکلتی ہے۔ یہ لائن نارنگ منڈی اسٹیشن سے ہوتی ہوئی نارووال اسٹیشن پر جا رکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے سے بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، قانون اور حکومت کی رٹ کے سامنے طاقتور انسان اور امیر کمزور تر ہوتا ہے، بس ہمت کی ضرورت ہے۔
نارووال
نارووال سیالکوٹ کا ایک بڑا اور جانا پہچانا قصبہ ہے، جو ایک ریلوے جنکشن بھی ہے۔ یہاں سے ایک گاڑی وزیرآباد کی طرف جاتی ہے۔ اسٹیشن کی نئی عمارت حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے اور اس میں دور جدید کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ یہ اسٹیشن مقامی مسافروں کے علاوہ سکھ یاتریوں کو گوردوارہ کرتار پور تک لے جانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نشونما پروگرام میں 97 ارب روپے کی تقسیم، مفتاح اسماعیل کی کمپنی کو مبینہ طور پر ٹھیکہ دیے جانے کا انکشاف
ثقافتی پہلو
نارووال اْردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کی جنم بھومی ہے، اور مشہور اداکار دیوآنند بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔ نامور گلوکار ابرار الحق نے یہاں مفت طبی سہولیات کے لیے ایک جدید ہسپتال اور ایک میڈیکل کالج قائم کیا، جہاں پاکستان بھر سے ماہرین آتے ہیں۔
گوردوارہ کرتارپور صاحب
نارووال کے قریب سکھوں کا دوسرا مقدس ترین مقام، گوردوارہ کرتارپور صاحب ہے، جو پاکستان-ہندوستان کی سرحد سے صرف 4 کلومیٹر دور ہے۔ حکومتِ پاکستان نے یہاں دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنایا ہے، جس کے ذریعے سکھ یاتری عبادت اور زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








