اگر مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو؛ سپریم کورٹ نے ساس سسر قتل کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے ساس سسر کے قتل کے ملزم اکرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ مملکت برائے توانائی عبدالرحمٰن کانجو کی والدہ انتقال کر گئیں
عدالت کا موقف
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کا عمر قید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ میاں بیوی میں جھگڑا نہیں تھا تو ساس سسر کو قتل کیوں کیا؟ دن دیہاڑے دو لوگوں کو قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کے معاملے پر حکومت کا رویہ بچگانہ ہے: شوکت یوسفزئی
وکیل کا دفاع
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ بیوی ناراض ہوکر میکے بیٹھی تھی۔ ملزم کے وکیل پرنس ریحان نے عدالت کو بتایا کہ میرا موکل بیوی کو منانے کے لیے میکے گیا تھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وکیل صاحب، آپ تو لگتا ہے بغیر ریاست کے پرنس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم نے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے عید سے قبل بڑی سہولت کا اعلان کر دیا
قتل کے اسباب
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ دو بندے مار دیے اور ملزم کہتا ہے مجھے غصہ آگیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ بیوی کو منانے گیا تھا تو ساتھ پستول لے کر کیوں گیا؟
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات، مختلف مسالک کے کئی علما اور پیش اماموں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی توثیق کردی
مدعی کی سچائی
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مدعی بھی ایف آئی آر کے اندراج میں جھوٹ بولتے ہیں۔ قتل شوہر نے کیا، ایف آئی آر میں مجرم کے والد خالق کا نام بھی ڈال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں رہنے والے ہم سب اماراتی ہیں، شیخ محمد بن زایدالنہیان
فوجداری مقدمات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو۔
مجرم کی سزا
واضح رہے کہ مجرم اکرم کو ساس سسر کے قتل پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جب کہ لاہور ہائیکورٹ نے سزا کو سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا.








