اگر مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو؛ سپریم کورٹ نے ساس سسر قتل کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے ساس سسر کے قتل کے ملزم اکرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: مریم نواز کا سب سے بڑا دیوانہ منظرِ عام پر آگیا
عدالت کا موقف
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کا عمر قید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ میاں بیوی میں جھگڑا نہیں تھا تو ساس سسر کو قتل کیوں کیا؟ دن دیہاڑے دو لوگوں کو قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ارشاد بھٹی کی تحقیقات ہوں تو ان کا کھرا بھی جنرل فیض حمید سے ہی جا کر ملے گا: جاوید لطیف
وکیل کا دفاع
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ بیوی ناراض ہوکر میکے بیٹھی تھی۔ ملزم کے وکیل پرنس ریحان نے عدالت کو بتایا کہ میرا موکل بیوی کو منانے کے لیے میکے گیا تھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وکیل صاحب، آپ تو لگتا ہے بغیر ریاست کے پرنس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت تین رافیل سمیت 5 طیارے گرائے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
قتل کے اسباب
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ دو بندے مار دیے اور ملزم کہتا ہے مجھے غصہ آگیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ بیوی کو منانے گیا تھا تو ساتھ پستول لے کر کیوں گیا؟
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اسلام آباد جی-11 کچہری میں دہشت گردانہ حملے کی بھرپور الفاظ میں مذمت
مدعی کی سچائی
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مدعی بھی ایف آئی آر کے اندراج میں جھوٹ بولتے ہیں۔ قتل شوہر نے کیا، ایف آئی آر میں مجرم کے والد خالق کا نام بھی ڈال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی نئی پابندیوں پر ایران کا ردعمل آگیا
فوجداری مقدمات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو۔
مجرم کی سزا
واضح رہے کہ مجرم اکرم کو ساس سسر کے قتل پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جب کہ لاہور ہائیکورٹ نے سزا کو سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا.








