اگر مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو؛ سپریم کورٹ نے ساس سسر قتل کے ملزم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے ساس سسر کے قتل کے ملزم اکرم کی سزا کے خلاف اپیل خارج کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی ہوگی، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
عدالت کا موقف
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ کا عمر قید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ میاں بیوی میں جھگڑا نہیں تھا تو ساس سسر کو قتل کیوں کیا؟ دن دیہاڑے دو لوگوں کو قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کا اے کیو آئی 215 پر آ گیا، دسمبر میں فضائی معیار میں واضح بہتری
وکیل کا دفاع
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ بیوی ناراض ہوکر میکے بیٹھی تھی۔ ملزم کے وکیل پرنس ریحان نے عدالت کو بتایا کہ میرا موکل بیوی کو منانے کے لیے میکے گیا تھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وکیل صاحب، آپ تو لگتا ہے بغیر ریاست کے پرنس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی: حلیم عادل، خرم شیر زمان ودیگر پر فرد جرم عائد
قتل کے اسباب
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ دو بندے مار دیے اور ملزم کہتا ہے مجھے غصہ آگیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے سوال کیا کہ بیوی کو منانے گیا تھا تو ساتھ پستول لے کر کیوں گیا؟
یہ بھی پڑھیں: ایران میں دس لاکھ سے زائد جنگجوؤں کو امریکہ کے ساتھ زمینی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، تسنیم نیوز ایجنسی کا دعویٰ
مدعی کی سچائی
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ مدعی بھی ایف آئی آر کے اندراج میں جھوٹ بولتے ہیں۔ قتل شوہر نے کیا، ایف آئی آر میں مجرم کے والد خالق کا نام بھی ڈال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ انتخابات سے متعلق مذاکرات ہوتے ہیں تو خیرمقدم کریں گے: سابق صدر عارف علوی
فوجداری مقدمات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ مدعی سچ بولے تو فوجداری مقدمات میں کوئی ملزم بھی بری نہ ہو۔
مجرم کی سزا
واضح رہے کہ مجرم اکرم کو ساس سسر کے قتل پر ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جب کہ لاہور ہائیکورٹ نے سزا کو سزائے موت سے عمر قید میں تبدیل کردیا تھا.








