شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد
پشاور میں منشیات کی بڑی برآمد
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے این ایف نے شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کرلی ، جس کی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ اے پی ایس پشاور کے 10 سال مکمل ، زخم آج بھی تازہ
اہم کارروائی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈر پر انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے گزشتہ روز اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کے خفیہ خانوں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی。
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ولنگڈن ہسپتال ویڈیو کیس، ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بھی معطل
برآمد شدہ منشیات کی اقسام
برآمد منشیات میں 17.5 کلو ہیروئن اور 4.5 کلو آئس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی گاڑی کو موٹر وے پر حادثہ
ملزم کی گرفتاری
اے این ایف نے واقعے کے سلسلے میں ننگرہار، افغانستان کے رہائشی ڈرائیور مومند اکرام کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کب تک الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق نئی پالیسی لانے کا فیصلہ کرچکی ہے؟ وفاقی وزیر نے بتادیا
چھپانے کی تدبیر
حکام نے بتایا کہ منشیات کو چھپانے کے لیے ٹرک میں شہد کی مکھیاں رکھی گئی تھیں تاکہ تفتیشی عملے کی توجہ دوسری سمت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ملک مزید انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، سیاست میں اختلاف ہوسکتا ہے دشمنی نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی
حفاظتی اقدامات
حکام کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹرمینلز پر سخت حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے اور ان کنٹرولوں کی مخالفت صرف وہی افراد کرتے ہیں جو سہولت کار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سفرنامے ممالک کے درمیان محبت کے پل باندھنے کا کام کرتے ہیں، مغربی حکمرانوں نے بھارت میں کارخانوں کا زہریلا پانی دریاؤں میں ڈالا
منشیات سمگلنگ کے خطرات
سینئر افسران نے انتباہ کیا کہ منشیات سمگلنگ منظم جرائم اور دہشت گردی کے مالی نظام کو تقویت دیتی ہے ، ان نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل غیرقانونی آمدنی نوجوانوں کو نشہ آور اشیاء کی لت میں دھکیلتی ہے اور اس کی بدولت اسلحہ سمگلنگ اور دیگر جرائم کو مالی معاونت ملتی ہے۔
اے این ایف کی تشخیص
اے این ایف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سرحدی محفوظیت اور اندرونِ ملک امن و امان کے لیے اہم کامیابی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسمگلنگ کے ممکنہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جا سکے۔








