شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد
پشاور میں منشیات کی بڑی برآمد
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے این ایف نے شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کرلی ، جس کی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل و ڈرون حملے کیے: پاسداران انقلاب
اہم کارروائی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈر پر انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے گزشتہ روز اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کے خفیہ خانوں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی。
یہ بھی پڑھیں: کرتار پور گردوارہ سے پانی مکمل طور پر نکال دیا گیا، گردوارہ صاحب کی تمام تاریخی اور قیمتی چیزیں محفوظ، بھارتی میڈیا کا پروپگینڈا بے نقاب
برآمد شدہ منشیات کی اقسام
برآمد منشیات میں 17.5 کلو ہیروئن اور 4.5 کلو آئس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں فضائی آلودگی شدت اختیار کرنے لگی، کھلی فضا میں سانس لینا صحت کے لیے خطرہ بن گیا
ملزم کی گرفتاری
اے این ایف نے واقعے کے سلسلے میں ننگرہار، افغانستان کے رہائشی ڈرائیور مومند اکرام کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں کٹوتی، ناسا کے 3,870 ملازمین نے استعفیٰ دے دیا
چھپانے کی تدبیر
حکام نے بتایا کہ منشیات کو چھپانے کے لیے ٹرک میں شہد کی مکھیاں رکھی گئی تھیں تاکہ تفتیشی عملے کی توجہ دوسری سمت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اگلے لیول کے لیے بھی تیار، لیکن کیا واقعی نیوکلیئر باڈی کی میٹنگ بھی طلب کرلی؟ وزیردفاع نے واضح کردیا
حفاظتی اقدامات
حکام کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹرمینلز پر سخت حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے اور ان کنٹرولوں کی مخالفت صرف وہی افراد کرتے ہیں جو سہولت کار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں رہ کر جنت جانے کی ممکنات، امریکا کا مقابلہ کرتے ہوئے – ذاکر نائیک
منشیات سمگلنگ کے خطرات
سینئر افسران نے انتباہ کیا کہ منشیات سمگلنگ منظم جرائم اور دہشت گردی کے مالی نظام کو تقویت دیتی ہے ، ان نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل غیرقانونی آمدنی نوجوانوں کو نشہ آور اشیاء کی لت میں دھکیلتی ہے اور اس کی بدولت اسلحہ سمگلنگ اور دیگر جرائم کو مالی معاونت ملتی ہے۔
اے این ایف کی تشخیص
اے این ایف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سرحدی محفوظیت اور اندرونِ ملک امن و امان کے لیے اہم کامیابی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسمگلنگ کے ممکنہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جا سکے۔








