شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد
پشاور میں منشیات کی بڑی برآمد
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے این ایف نے شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کرلی ، جس کی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میری نظر میں کوئی بھی سیاسی جماعت، کوئی بھی پاکستان کا لیڈر اینٹی پاکستان نہیں ہے، سینیٹر علی ظفر
اہم کارروائی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈر پر انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے گزشتہ روز اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کے خفیہ خانوں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی。
یہ بھی پڑھیں: ارشَد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر ایک اور تاریخ رقم کر دی
برآمد شدہ منشیات کی اقسام
برآمد منشیات میں 17.5 کلو ہیروئن اور 4.5 کلو آئس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی سے روکنے کے حکم میں توسیع
ملزم کی گرفتاری
اے این ایف نے واقعے کے سلسلے میں ننگرہار، افغانستان کے رہائشی ڈرائیور مومند اکرام کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیلی حملے سے قبل ویپن گریڈ کے قریب افزودہ یورینیم کے ذخائر بڑھا لیے تھے، آئی اے ای اے
چھپانے کی تدبیر
حکام نے بتایا کہ منشیات کو چھپانے کے لیے ٹرک میں شہد کی مکھیاں رکھی گئی تھیں تاکہ تفتیشی عملے کی توجہ دوسری سمت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کے موقع پر لاہور سفاری زو کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجا دیا گیا، 2ہزار روپے انٹری مقرر
حفاظتی اقدامات
حکام کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹرمینلز پر سخت حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے اور ان کنٹرولوں کی مخالفت صرف وہی افراد کرتے ہیں جو سہولت کار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مغلپورہ میں مبینہ تشدد سے بہو کے جاں بحق ہونے کا نوٹس، سخت قانونی کارروائی کا حکم
منشیات سمگلنگ کے خطرات
سینئر افسران نے انتباہ کیا کہ منشیات سمگلنگ منظم جرائم اور دہشت گردی کے مالی نظام کو تقویت دیتی ہے ، ان نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل غیرقانونی آمدنی نوجوانوں کو نشہ آور اشیاء کی لت میں دھکیلتی ہے اور اس کی بدولت اسلحہ سمگلنگ اور دیگر جرائم کو مالی معاونت ملتی ہے۔
اے این ایف کی تشخیص
اے این ایف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سرحدی محفوظیت اور اندرونِ ملک امن و امان کے لیے اہم کامیابی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسمگلنگ کے ممکنہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جا سکے۔








