شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد
پشاور میں منشیات کی بڑی برآمد
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اے این ایف نے شہد کی مکھیوں سے لدے ٹرک کے خفیہ خانوں سے منشیات برآمد کرلی ، جس کی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برزل پاس میں برف کا تودہ گرنے سے کیپٹن، ایک سپاہی اور مشین آپریٹر شہید
اہم کارروائی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق پاک افغان طورخم بارڈر پر انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے گزشتہ روز اہم کارروائی کرتے ہوئے ایک ٹرک کے خفیہ خانوں سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی。
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں قلندرز اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز مکمل، لڑکوں اور لڑکیوں کی 15، 15 رکنی ٹیموں کا اعلان
برآمد شدہ منشیات کی اقسام
برآمد منشیات میں 17.5 کلو ہیروئن اور 4.5 کلو آئس شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 24 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی واقعہ پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی: عطا تارڑ
ملزم کی گرفتاری
اے این ایف نے واقعے کے سلسلے میں ننگرہار، افغانستان کے رہائشی ڈرائیور مومند اکرام کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی سپورٹ اور چین کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کے معاملات، مبشر لقمان کی پروگرام جرگہ میں گفتگو کی پرانی ویڈیو پھر وائرل
چھپانے کی تدبیر
حکام نے بتایا کہ منشیات کو چھپانے کے لیے ٹرک میں شہد کی مکھیاں رکھی گئی تھیں تاکہ تفتیشی عملے کی توجہ دوسری سمت ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پروفیسر عامر زمان کو ڈائریکٹر جنرل( ایڈمنسٹریٹر )پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کیوں تعینات کیا گیا ۔۔؟ اصل کہانی سامنے آ گئی
حفاظتی اقدامات
حکام کا کہنا تھا کہ بارڈر ٹرمینلز پر سخت حفاظتی اقدامات جاری رہیں گے اور ان کنٹرولوں کی مخالفت صرف وہی افراد کرتے ہیں جو سہولت کار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ہفتے قبل نالے میں کودنے والی ڈاکٹر مشعال کا کوئی سراغ نہ مل سکا، شوہر گرفتار
منشیات سمگلنگ کے خطرات
سینئر افسران نے انتباہ کیا کہ منشیات سمگلنگ منظم جرائم اور دہشت گردی کے مالی نظام کو تقویت دیتی ہے ، ان نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل غیرقانونی آمدنی نوجوانوں کو نشہ آور اشیاء کی لت میں دھکیلتی ہے اور اس کی بدولت اسلحہ سمگلنگ اور دیگر جرائم کو مالی معاونت ملتی ہے۔
اے این ایف کی تشخیص
اے این ایف کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سرحدی محفوظیت اور اندرونِ ملک امن و امان کے لیے اہم کامیابی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اسمگلنگ کے ممکنہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا جا سکے۔








