چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹانے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا
چیئرمین پی ٹی اے کی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹائے جانے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچلاک اور سبی لائن پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جاتا ہے، یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ گاڑی نہیں قید خانے میں سفر کر رہے ہیں۔
اپیل کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق، چیئرمین پی ٹی اے نے فیصلے کے خلاف اپیل آرڈیننس 1972 کے تحت دائر کی ہے۔ اپیل کنندہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے موجودہ چیئرمین ہیں جنہوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ مجھے پہلے 24 مئی 2023 میں پی ٹی اے میں ممبر (انتظامیہ) مقرر کیا گیا تھا، جس کے بعد 25 مئی 2023 کو ترقی دے کر چیئرمین بنادیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہاز شمشیر کی امریکی بحریہ کے جہاز فٹزجیرالڈ کے ساتھ شمالی بحر ہند میں مشق
قانونی حیثیت
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمٰن قوانین اور ضوابط کے مطابق اپنے کام انجام دے رہے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اس اپیل کو تقرری کو قانونی ثابت کرنے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس فراڈ کیسز کی تحقیقات، ایف بی آر کو اضافی اختیارات مل گئے
عدالت کا فیصلہ
اپیل میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آج ایک محفوظ فیصلے سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ سنایا۔
فوری سماعت کی استدعا
چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت سے اپیل کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔








