چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹانے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا
چیئرمین پی ٹی اے کی ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹائے جانے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ای ویزا پر پاکستان آیا روسی طالبعلم اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے لاپتا، عدالت نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
اپیل کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق، چیئرمین پی ٹی اے نے فیصلے کے خلاف اپیل آرڈیننس 1972 کے تحت دائر کی ہے۔ اپیل کنندہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے موجودہ چیئرمین ہیں جنہوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ مجھے پہلے 24 مئی 2023 میں پی ٹی اے میں ممبر (انتظامیہ) مقرر کیا گیا تھا، جس کے بعد 25 مئی 2023 کو ترقی دے کر چیئرمین بنادیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کا بیرون ملک تعیناتی کے دوران عمان کا دورہ
قانونی حیثیت
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمٰن قوانین اور ضوابط کے مطابق اپنے کام انجام دے رہے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اس اپیل کو تقرری کو قانونی ثابت کرنے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے پاکستانی شہریوں کا انخلا جاری، 377 وطن پہنچ گئے
عدالت کا فیصلہ
اپیل میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آج ایک محفوظ فیصلے سناتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ سنایا۔
فوری سماعت کی استدعا
چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت سے اپیل کو فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔








