اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کا ردعمل
PEMRA کا عائشہ عمر کے شو پر بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) نے عائشہ عمر کے اردو ریئلٹی ڈیٹنگ شو لازوال عشق کے خلاف موصول ہونے والی شکایات پر باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شارجہ کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت غلام قادر راجہ کے اعزاز میں عشائیہ
پیمرا کا وضاحتی بیان
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پیمرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اتھارٹی کو متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں، تاہم یہ پروگرام پیمرا کے دائرہ کار میں نہیں آتا کیونکہ یہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نشر کیا جا رہا ہے۔ پیمرا کے قوانین صرف لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز پر لاگو ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عہدہ ملا تو بھارت اور پاکستان میں امریکی مفادات کیلئے کام کرونگا: انڈین امریکن پال کپور
ڈیٹنگ شو کی تفصیلات
ڈیٹنگ شو لازوال عشق دراصل ترک ریئلٹی شو عشق آداسی کا نیا ورژن ہے، جس میں چار مرد اور چار خواتین ایک شاندار حویلی میں 100 قسطوں کیلئے ایک ساتھ رہیں گے۔ شو میں دلچسپ مراحل، حیران کن موڑ اور رومانوی مناظر شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے 200 فیصد امکانات ہیں، کیسز میرٹ پر چلیں تو وہ ایک دن بھی مزید جیل میں نہیں رہ سکتے، اسد قیصر
عائشہ عمر کا منفرد انداز
اداکارہ اور میزبان عائشہ عمر نے حال ہی میں اس شو لازوال عشق کی پرکشش جھلک سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں وہ ایک کشتی پر سفید لباس میں دلکش انداز میں نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ویسا ہے جیسا آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا، لازوال عشق شروع ہو رہا ہے، ایک حقیقت پر مبنی شو جو محبت تلاش کرنے اور اس کے سفر کے امتحانات و سبق پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کا مستونگ گرلز ہائی سکول بم دھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس
سوشل میڈیا پر ردعمل
عائشہ عمر پاکستان کے پہلے ڈیٹنگ شو "لال عشق" کی میزبانی کرنے جارہی ہیں ???? pic.twitter.com/aEshpDARYC
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) September 15, 2025
تنقید کا سامنا
واضح رہے کہ ٹیزر جاری ہونے کے بعد لازوال عشق پاکستانی سوشل میڈیا پر تیزی سے ٹرینڈ کرنے لگا، مگر پسندیدگی کے بجائے لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنا۔ متعدد صارفین نے شو کے تصور کو مقامی ثقافتی اور مذہبی اقدار کے خلاف قرار دیا، نتیجتاً سینکڑوں شکایات پیمرا میں درج کرائی گئیں۔








