رینجرز نے معرکۂ حق میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی، اب باقاعدہ وار فائیٹنگ فورس ہے: ڈی جی رینجرز پنجاب
ڈی جی پنجاب رینجرز کا افسران اور جوانوں کے ساتھ تعامل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی پنجاب رینجرز نے رینجرز ہیڈکوارٹرز لاہور میں رینجرز کے افسران اور جوانوں کے ساتھ interaction کیا۔ تقریب کا آغاز باقاعدہ قران پاک کی تلاوت سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کا بے سہارا بیواؤں کے قبضہ کیس فوری حل کرنے کا حکم
رینجرز کی کارکردگی
تقریب سے خطاب میں ڈی جی پنجاب رینجرز نے کہا کہ پاکستان رینجرز پنجاب نے معرکۂ حق میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور بہت اچھا رسپانس دیا تھا۔ پہلے اس فورس کو سیکنڈ ٹئیر میں تصور کیا جاتا تھا مگر اب رینجرز ایک باقاعدہ وار فائیٹنگ فورس ہے۔ انہیں اب جنگ کی صورت میں بارڈر پر ہی رہ کر اپنے فرائض سر انجام دینا ہوگا۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ایسی باوقار فورس کی کمانڈ کی ہے۔ رینجرز کے پاس دشمن کو بروقت جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے جو کہ ان کی اچھی ٹریننگ کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماورا حسین نے اداکاری کو خیرباد کہنے کا اشارہ دے دیا
تنخواہوں میں اضافہ
ڈی جی رینجرز نے یہ بھی کہا کہ جب وہ رینجرز میں آئے تو جوانوں کا ایک مطالبہ تھا کہ ان کی تنخواہ باقی فورسز سے کم ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر کام شروع کیا اور نتیجتاً رینجرز کے جوانوں کی تنخواہ آرمی کے تقریباً برابر کردی گئی۔ حالیہ بجٹ 2026-2025 میں آرمی اور رینجرز کی تنخواہوں میں پھر ایک بار کافی فرق پڑ گیا ہے جس پر انہوں نے خط لکھا ہے۔ امید ہے کہ رینجرز کی تنخواہ دوبارہ آرمی کے برابر ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر مبارکباد
کنوینس الاؤنس
جوانوں کا کنوینس الاؤنس بھی بہت کم ہے اور اسے بڑھانے کے لیے حکومت کو خط لکھا گیا ہے۔ طے پایا ہے کہ تمام سول آرمڈ فورسز کو برابر مراعات ملیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں بڑا اضافہ
رینکس اور سروس اسٹرکچر
ڈی جی رینجرز نے رینکس اور سروس سٹرکچر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام سول آرمڈ فورس کے رینکس برابر رہیں گے، یعنی ایف سی میں صوبیدار اور رینجرز میں انسپکٹر رینک ہی برقرار رہے گا۔ تاہم، سکیل برابر کر دیئے جائیں گے۔ نئے سٹرکچر کے تحت 5 تا 7 سال میں اوور سروس والوں کا ریٹائرمنٹ کا عمل شروع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، ایرانی میڈیا
وفاقی محکمہ رینجرز
ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ چونکہ رینجرز ایک وفاقی محکمہ ہے، اس لیے یونیفائیڈ آرڈیننس کے تحت پورے پاکستان میں اس کو ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔ پہلے مرحلے میں پنجاب رینجرز FC KP کے 2 ونگز کے ساتھ تبدیل ہو جائے گی۔ پنجاب رینجرز کے 2 ونگز، یعنی 20 ونگ اور 12 ونگز، 10 اکتوبر کو ایف سی کے ساتھ تغییر کے لیے پشاور روانہ ہوں گے۔
آخری ریمارکس
آخر میں، ڈی جی رینجرز نے انٹرکشن میں بیٹھے افسران اور انسپکٹرز سے ان کے پوائنٹس پوچھے۔ مکمل خاموشی اور کسی کا کوئی پوائنٹ نہ ہونے کی وجہ سے انٹرکشن کا تقریب ختم کر دی گئی۔








