آج ملک ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے، کسی نے کم کسی نے زیادہ لوٹا، بینکوں کو کنگال کیا اور عوام کے حقوق غصب کیے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 162
یہ بھی پڑھیں: مار پیٹ سے کبھی کسی کو ہدایت ملی ہے نہ ہی درست راستہ، مولانا طارق جمیل
پاکستان لائیرز کونسل کا پیغام
آخری میں اپنے پاکستان لائیرز کونسل کے دوستوں کی جانب سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم میرٹ اور انصاف کے نظام کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ آپ تینوں امیدواران میں سے جس کے حق میں بھی فیصلہ کریں گے ہمارے دوست آپ کے ساتھ کھڑے ہو کر دامے درمے سخنے کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے: شاہ محمود قریشی
کونسل کا فیصلہ
ہماری کونسل کا فیصلہ تینوں مذکورہ بالا اْمیدواران سے ڈاکٹر خالد رانجھا کے حق میں ہوا اور دامے درمے سخنے ہائی کورٹ بار کے الیکشن میں اْن کا ہاتھ بٹایا اور وہ کامیاب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کو سیلابی نالوں، نہروں اور دریاؤں میں نہانے سے روکیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی والدین سے اپیل
پریس ریلیز
26 فروری 1997ء لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن
ہائیکورٹ بار لاہور کا ہنگامی اجلاس چودھری ایم۔ ایس شاد صدر ہائیکورٹ بار کی زیر سرپرستی منعقد ہوا۔ محمد شہزاد شوکت سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے چودھری محمد حنیف صاحب کو تلاوتِ کلام پاک کی دعوت دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کا دوسرا ٹی20 آج لاہور میں ہوگا
اجلاس کی کارروائی
سیکرٹری بار محمد شہزاد شوکت نے تحریک کے محرک جناب رانا امیر احمد خاں، ایڈووکیٹ کو دعوت دی کہ ہاؤس کے سامنے اپنی قرار داد پیش کریں جس پر راقم نے اپنی قرارداد پڑھی اور محمد افضال ملہی اور محمد اسلم سندھو بارایٹ لاء نے تائید کی۔ سارے ہاؤس نے قرارداد کو متفقہ طور پر پاس کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 121 گاڑیوں کے لاک توڑ کر چوری کرنے والے لڑکے کو 5 گھنٹے بعد رہا کردیا گیا
اجلاسی خطاب
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری ایم۔ ایس شاد نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی ”قرض اتارو ملک سنوارو“ مہم کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسا نہیں ہو گا جو کہ ملک کی قسمت نہ سنوارنا چاہتا ہو۔ ممبرانِ بار کو بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس کارخیر میں حسبِ استطاعت بھرپور حصہ لینا چاہئے اور جب تک ملک قرض کی لعنت سے آزاد نہیں ہو جاتا اس وقت تک یہ مہم جاری رہنی چاہئے۔ یہ بار جمع شدہ چندہ 15 مارچ کو وزیر اعظم پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گی اور اس کے بعد بتدریج رقوم جمع کروائی جاتی رہیں گی۔
(شہزاد شوکت سیکرٹری ہائی کورٹ بار)
یہ بھی پڑھیں: شدید دھند کے باعث موٹرویز ایم 3، ایم 4 اور ایم 5 مختلف مقامات سے بند
قرارداد کا متن
26 فروری 1997ء متن قرارداد پاس کردہ لاہور ہائی کورٹ بار
پیش کردہ رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ بحق ”قرض اتارو ملک سنوارو مہم“
آج ہمارا ملک مالیاتی اداروں کے ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں کسی نے کم کسی نے زیادہ قومی خزانے کو لوٹا۔ بینکوں کو کنگال کیا اور عوام کے حقوق غصب کئے اوراب حال یہ ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








