ٹرمپ کی بگرام ائیر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغان طالبان کا سخت ردعمل
افغان وزارت دفاع کی جانب سے ردعمل
کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بگرام ایئر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغان وزارت دفاع کے سربراہ فصیح الدین فطرت کا بیان سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی بطور پی سی بی چیئرمین تقرری پر غیر قانونی مالی ادائیگیوں کا انکشاف
بگرام ایئر بیس کا مستقبل
بگرام ایئر بیس واپس لینے کے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سربراہ افغان وزارت دفاع فصیح الدین فطرت نے کہا کہ بگرام ایئر بیس پر کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، امریکہ کا 10 ایف 35 طیارے کیریبین جزیرہ پر بھیجنے کا اعلان
معاہدے کی ضرورت نہیں
فصیح الدین فطرت نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سیاسی ڈیل کے تحت بگرام ایئر بیس واپس لینا چاہتے ہیں، لیکن افغانستان کی ایک انچ زمین پر بھی معاہدہ ممکن نہیں۔ افغانستان کی زمین پر کسی معاہدے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
ٹرمپ کے بیانات
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو افغانستان کی بگرام ایئر بیس نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم بگرام ایئر بیس واپس لیں گے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا؟
نتائج کی دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان بگرام ایئر بیس امریکا کو واپس نہیں دیتا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ سے نمٹنے کیلئے تاریخی شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا گیا: مریم اورنگزیب
چینی ردعمل
کچھ روز قبل چین کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئر بیس سے متعلق بیان پر ردعمل میں کہا گیا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔
خطے میں امن کی کوششیں
چینی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہم خطے میں کشیدگی یا تناؤ کی حمایت نہیں کریں گے، اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریق خطے کے امن اور استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں گے۔








