ٹرمپ کی بگرام ائیر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغان طالبان کا سخت ردعمل
افغان وزارت دفاع کی جانب سے ردعمل
کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بگرام ایئر بیس واپس لینے کی دھمکی پر افغان وزارت دفاع کے سربراہ فصیح الدین فطرت کا بیان سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: جیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کرینگے؟ جسٹس عقیل عباسی
بگرام ایئر بیس کا مستقبل
بگرام ایئر بیس واپس لینے کے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سربراہ افغان وزارت دفاع فصیح الدین فطرت نے کہا کہ بگرام ایئر بیس پر کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انجینئر محمد علی مرزا کی ضمانت مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم، ہائیکورٹ نے مقدمہ دوبارہ سیشن کورٹ کو بھجوا دیا
معاہدے کی ضرورت نہیں
فصیح الدین فطرت نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سیاسی ڈیل کے تحت بگرام ایئر بیس واپس لینا چاہتے ہیں، لیکن افغانستان کی ایک انچ زمین پر بھی معاہدہ ممکن نہیں۔ افغانستان کی زمین پر کسی معاہدے کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی نے آشنا سے مل کر شوہر کو قتل کرکے لاش پر سانپ چھوڑ دیا
ٹرمپ کے بیانات
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو افغانستان کی بگرام ایئر بیس نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم بگرام ایئر بیس واپس لیں گے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج
نتائج کی دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان بگرام ایئر بیس امریکا کو واپس نہیں دیتا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کے استعفے کئی حوالوں سے غیر آئینی اقدامات کہے جا سکتے ہیں، وزیر مملکت برائے قانون
چینی ردعمل
کچھ روز قبل چین کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئر بیس سے متعلق بیان پر ردعمل میں کہا گیا کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔
خطے میں امن کی کوششیں
چینی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہم خطے میں کشیدگی یا تناؤ کی حمایت نہیں کریں گے، اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریق خطے کے امن اور استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں گے۔








