فورٹ عباس کا ویران ریلوے اسٹیشن: دن میں الو اور رات کو چمگادڑیں

مصنف: محمد سعید جاوید

حصہ: 259

یہ بھی پڑھیں: بھارت ابھی تک پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے جبکہ ہم نے محنت سے سفارتی محاذ پر کامیابیاں حاصل کیں،عطاتارڑ

فورٹ عباس اور سرحدی علاقے

دوسری طرف فورٹ عباس سے کچھ ہی دور ہندوستان کی سرحد بھی آ لگتی ہے۔ جس کے اْس پار ان کی انوپ گڑھ، سورت گڑھ اور بیکانیر کی سرحدی ریاستیں موجود ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر صحرائی علاقے ہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مبہم سروے، غلط اندازے اور ٹاس: امریکی صدارتی انتخابات میں مقابلہ اتنا شدت پسند کیوں ہے؟

پرانا شہر

شروع میں تو مسکین سا یہ شہر ریت میں دبا ہوا ایک چھوٹا سا اور غیر معروف سا قصبہ ہی تھا۔ پچھلی صدی کی ابتدائی دہائیوں میں یہ علاقہ بری طرح غیر آباد تھا۔ چولستان جیسے بڑے اور خوفناک صحرا کے پہلو میں واقع ہونے کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑتا تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور کر لئے گئے

موسمی حالات

اس کی وجہ سے یہاں دن رات ریت کے طوفان آتے رہتے تھے، جب کئی کئی دن رنگ برنگی اور مسلسل آندھیاں چلتی تھیں تو بگولے ہر سو ریت کے دریا بہا دیتے تھے۔ آندھیاں بھی ایسی شدید کہ بند ہونا تو درکنار، ان کا زور تک نہیں ٹوٹتا تھا۔ ان کی وجہ سے وہاں بنے ہوئے ریت کے ٹیلے روزانہ کی بنیاد پر اپنی جگہ اور ہیئت تبدیل کرتے رہتے تھے، جنھیں عام انسان کے لیے سمجھنا اور یاد رکھنا انتہائی دشوار ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام سے پروان چڑھنے والی محبت کا دردناک انجام، ملزم نے محبوبہ کو قتل کر کے لاش دریا میں پھینک دی

سفر کا ذریعہ

اس وقت اونٹ ہی وہ واحد سواری تھی جو ایسے سخت موسمی حالات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتا تھا۔ لوگ عموماً اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر یا پیدل ہی سفر کیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ٹیل ہوم کی پاکستان میں 100 سے زائد اسٹورز کے قیام کی حکمتِ عملی کا اعلان، سپر اسٹار سجل علی کی کراچی میں فلیگ شپ اسٹور آمد

آبادی کی ترقی

تاہم یہاں اب آہستہ آہستہ آباد کاری کی ابتداء ہو رہی تھی، نہروں کا نظام قائم ہوا تو گاؤں بھی بس گئے اور ہلکی پھلکی زراعت بھی شروع ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا مستقبل میں بجلی کی خریداری نہ کرنے کا فیصلہ، سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان

زرعی منڈی

اس علاقے میں اْگائی گئی اجناس کو منڈیوں تک لے جانے کا چلن ہوا تو فورٹ عباس ایک بہت بڑی اور اہم غلہ منڈی بن کر سامنے آیا، جہاں کسان اپنی فصلیں لاتے اور بیوپاریوں کے حوالے کر دیتے تھے جو انھیں کچھ دن پاس رکھ کر آگے کہیں بھیج دیتے تھے۔ فورٹ عباس اپنے علاقے میں کپاس، سرسوں، گندم اور گڑ شکر کی بہت بڑی منڈی بن گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فیض حمید اور رانا تنویر حسین کا ایک پیج پر ہونا اور پی ٹی آئی کے لیے پلان بنانا

ماضی کی زراعت

پرانے وقتوں میں پانی کی فراوانی کی بدولت یہاں ہر قسم کی دالیں اور سبزیاں بھی ہوتی تھیں، جو اب نہیں ہوتیں۔ گنا بھی خوب کاشت ہوتا تھا، گو ان دنوں اس علاقے میں کوئی شوگر مل بھی نہیں تھی پھربھی لوگ مقامی طور پر گڑ، شکر اور دیسی چینی بنا کر منڈیوں میں لے آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا شدید بدامنی کا شکار ہے، کسی بڑے ترقیاتی منصوبے کا نام تک نہیں لیا جا سکتا، بے روزگاری اور مایوسی بڑھ رہی ہے، سراج الحق

نئی آباد کاری

آباد کاری بھی ساتھ ساتھ جاری رہی، مالی طور پر ہلکے کاشتکار پنجاب کے دوسرے علاقوں سے یہاں پہنچ کر کم قیمت میں زرعی زمینیں خریدنے لگے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا وہاں خوب آنا جانا لگا رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 7 مئی کا تاریخی معرکہ: مختلف ممالک کی پاک فضائیہ میں دلچسپی بڑھ گئی

لکڑی کا کاروبار

اس علاقے میں لکڑی کا کاروبار بھی عروج پر تھا۔ صحرا میں بے تحاشا سرکاری جنگلوں کی کٹائی کے علاوہ، اکثر کسان بھی اپنی زمینوں سے اضافی درخت فروخت کر کے گھر کا خرچہ وغیرہ نکال لیا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی

ریلوے اسٹیشن کی حالت

فورٹ عباس بھی اپنے علاقے کا ایک اہم مگر اْجاڑ اور بیابان سا ریلوے اسٹیشن تھا، جہاں دن کے وقت الو اور رات کو چمگادڑیں بولا کرتی تھیں۔ ایک تو یہ ویسے ہی قصبے کے کافی باہر واقع تھا، دوسرا جب یہاں گاڑیوں کی آمد و رفت نہ ہوتی تو یہ سچ مچ کا بھوت بنگلہ بن جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ سے بلوچستان کیوں متاثر ہورہا ہے؟

پہلا اسٹیشن ماسٹر

سنتے ہیں یہاں کا پہلا اسٹیشن ماسٹر ایک انگریز تھا، جو اس سارے ماحول سے خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلا تھا۔ میں خود بھی بچپن میں متعدد بار اس اسٹیشن سے ریل گاڑی پر سوار ہوا ہوں۔ جس دن ہمیں جانا ہوتا تھا ہم ایک روز قبل ہی گاؤں سے فورٹ عباس میں مقیم اپنے ماموں کے ہاں چلے جاتے۔ رات بھر قیام کرتے اور اگلی صبح اذان فجر سے بھی پہلے نیند کی حالت میں ہمارے والدین ہمیں اٹھا کر بیل گاڑی میں لاد کر اسٹیشن تک لے جاتے تھے۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...