فورٹ عباس کا ویران ریلوے اسٹیشن: دن میں الو اور رات کو چمگادڑیں
مصنف: محمد سعید جاوید
حصہ: 259
یہ بھی پڑھیں: ہوٹل میں کھانے کے دوران سالن میں مرا ہوا چوہا نکل آیا، ویڈیو وائرل
فورٹ عباس اور سرحدی علاقے
دوسری طرف فورٹ عباس سے کچھ ہی دور ہندوستان کی سرحد بھی آ لگتی ہے۔ جس کے اْس پار ان کی انوپ گڑھ، سورت گڑھ اور بیکانیر کی سرحدی ریاستیں موجود ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر صحرائی علاقے ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا لکی مروت میں فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار
پرانا شہر
شروع میں تو مسکین سا یہ شہر ریت میں دبا ہوا ایک چھوٹا سا اور غیر معروف سا قصبہ ہی تھا۔ پچھلی صدی کی ابتدائی دہائیوں میں یہ علاقہ بری طرح غیر آباد تھا۔ چولستان جیسے بڑے اور خوفناک صحرا کے پہلو میں واقع ہونے کی اسے بھاری قیمت چکانا پڑتا تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 5 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق، وزیر اعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی
موسمی حالات
اس کی وجہ سے یہاں دن رات ریت کے طوفان آتے رہتے تھے، جب کئی کئی دن رنگ برنگی اور مسلسل آندھیاں چلتی تھیں تو بگولے ہر سو ریت کے دریا بہا دیتے تھے۔ آندھیاں بھی ایسی شدید کہ بند ہونا تو درکنار، ان کا زور تک نہیں ٹوٹتا تھا۔ ان کی وجہ سے وہاں بنے ہوئے ریت کے ٹیلے روزانہ کی بنیاد پر اپنی جگہ اور ہیئت تبدیل کرتے رہتے تھے، جنھیں عام انسان کے لیے سمجھنا اور یاد رکھنا انتہائی دشوار ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر پاکستان پہنچ گئے
سفر کا ذریعہ
اس وقت اونٹ ہی وہ واحد سواری تھی جو ایسے سخت موسمی حالات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتا تھا۔ لوگ عموماً اونٹوں اور بیل گاڑیوں پر یا پیدل ہی سفر کیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: 28 سے 31 جولائی تک پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا امکان، محکمہ موسمیات
آبادی کی ترقی
تاہم یہاں اب آہستہ آہستہ آباد کاری کی ابتداء ہو رہی تھی، نہروں کا نظام قائم ہوا تو گاؤں بھی بس گئے اور ہلکی پھلکی زراعت بھی شروع ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بیلاروس نے پاک فضائیہ کی جنگی مہارتوں سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کردی
زرعی منڈی
اس علاقے میں اْگائی گئی اجناس کو منڈیوں تک لے جانے کا چلن ہوا تو فورٹ عباس ایک بہت بڑی اور اہم غلہ منڈی بن کر سامنے آیا، جہاں کسان اپنی فصلیں لاتے اور بیوپاریوں کے حوالے کر دیتے تھے جو انھیں کچھ دن پاس رکھ کر آگے کہیں بھیج دیتے تھے۔ فورٹ عباس اپنے علاقے میں کپاس، سرسوں، گندم اور گڑ شکر کی بہت بڑی منڈی بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئرہیلپ نے سال 2025 کی بہترین ایئرلائنز کی عالمی فہرست جاری کر دی، ایک بار پھر مسلم ملک سرفہرست۔
ماضی کی زراعت
پرانے وقتوں میں پانی کی فراوانی کی بدولت یہاں ہر قسم کی دالیں اور سبزیاں بھی ہوتی تھیں، جو اب نہیں ہوتیں۔ گنا بھی خوب کاشت ہوتا تھا، گو ان دنوں اس علاقے میں کوئی شوگر مل بھی نہیں تھی پھربھی لوگ مقامی طور پر گڑ، شکر اور دیسی چینی بنا کر منڈیوں میں لے آتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انگریزوں کے زمانے میں چھانگا مانگاکا مصنوعی جنگل اور سیاحوں کے لیے ریل گاڑی
نئی آباد کاری
آباد کاری بھی ساتھ ساتھ جاری رہی، مالی طور پر ہلکے کاشتکار پنجاب کے دوسرے علاقوں سے یہاں پہنچ کر کم قیمت میں زرعی زمینیں خریدنے لگے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا وہاں خوب آنا جانا لگا رہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کی فیملی کے ہمراہ تاریخی گردوارہ پنجہ صاحب حاضری، والدین کے آبائی گاؤں بھی جائیں گے
لکڑی کا کاروبار
اس علاقے میں لکڑی کا کاروبار بھی عروج پر تھا۔ صحرا میں بے تحاشا سرکاری جنگلوں کی کٹائی کے علاوہ، اکثر کسان بھی اپنی زمینوں سے اضافی درخت فروخت کر کے گھر کا خرچہ وغیرہ نکال لیا کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز کی پی ایس ایل میں واپسی ہو گئی
ریلوے اسٹیشن کی حالت
فورٹ عباس بھی اپنے علاقے کا ایک اہم مگر اْجاڑ اور بیابان سا ریلوے اسٹیشن تھا، جہاں دن کے وقت الو اور رات کو چمگادڑیں بولا کرتی تھیں۔ ایک تو یہ ویسے ہی قصبے کے کافی باہر واقع تھا، دوسرا جب یہاں گاڑیوں کی آمد و رفت نہ ہوتی تو یہ سچ مچ کا بھوت بنگلہ بن جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حافظ فضل الرحیم اشرفی کی علمی و دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: وزیر اعظم شہباز شریف
پہلا اسٹیشن ماسٹر
سنتے ہیں یہاں کا پہلا اسٹیشن ماسٹر ایک انگریز تھا، جو اس سارے ماحول سے خوف زدہ ہو کر بھاگ نکلا تھا۔ میں خود بھی بچپن میں متعدد بار اس اسٹیشن سے ریل گاڑی پر سوار ہوا ہوں۔ جس دن ہمیں جانا ہوتا تھا ہم ایک روز قبل ہی گاؤں سے فورٹ عباس میں مقیم اپنے ماموں کے ہاں چلے جاتے۔ رات بھر قیام کرتے اور اگلی صبح اذان فجر سے بھی پہلے نیند کی حالت میں ہمارے والدین ہمیں اٹھا کر بیل گاڑی میں لاد کر اسٹیشن تک لے جاتے تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








