مصری میوزیم سے چوری ہونے والا فرعون دور کا سونے کا کڑا 4 ہزار ڈالر میں فروخت، 4 ملزمان گرفتار
قیمتی سونے کے کڑے کی چوری
قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصری عجائب گھر سے چوری ہونے والے انتہائی قیمتی سونے کے کڑے کی فروخت نے سنسنی پھیلا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کے باقی میچز کا شیڈول جاری
تاریخی اہمیت
یہ کڑا جو تین ہزار سال پرانا ہے، مصر کے 21 ویں خاندان کے فرعون امینیموپ کے دور کا تھا، حال ہی میں ایک خفیہ نیلامی میں خطیر قیمت پر فروخت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الحمد للہ باقاعدہ نانا بن چکا ہوں، ثقلین مشاق کا نواسی کی پیدائش پر رد عمل
گرفتاری کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، مصری پولیس نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سونے کا قیمتی کڑا چوری کرکے 4 ہزار ڈالر میں نیلام کرنے کے الزام میں مصری عجائب گھر کے ایک ملازم اور اس کے 3 ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صوبائی وزیر اور پیپلزپارٹی کے سابق ترجمان امجد آفریدی کو قتل کیس میں ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا
کڑے کی خصوصیات
یہ 3 ہزار سال پرانا سونے کا کڑا لاپیس لازولی موتیوں سے مزین تھا۔ مصر کی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عجائب گھر کے عملے نے ہفتے کے روز اس کڑے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی بندش؛ سیالکوٹ میں ٹماٹر 700روپے فی کلو ہو گئے
چوری کی منصوبہ بندی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کڑے کو عجائب گھر کی کنزرویشن لیب کے اندر ایک بند دھاتی سیف میں رکھا گیا تھا جسے وہاں کے ایک ملازم نے 9 ستمبر کو ڈیوٹی کے دوران چرا لیا تھا۔ گرفتاری کے ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
نیلامی کا معاملہ
مصری پولیس کے مطابق، وسطی قاہرہ میں ایک چاندی کے تاجر نے اس کڑے کو فروخت کرنے میں مدد کی اور اسے 4 ہزار ڈالرز میں فروخت کیا گیا۔ کڑے کو خریدنے والے نے اسے خریدنے کے بعد پگھلا دیا۔








