مصری میوزیم سے چوری ہونے والا فرعون دور کا سونے کا کڑا 4 ہزار ڈالر میں فروخت، 4 ملزمان گرفتار
قیمتی سونے کے کڑے کی چوری
قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مصری عجائب گھر سے چوری ہونے والے انتہائی قیمتی سونے کے کڑے کی فروخت نے سنسنی پھیلا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ
تاریخی اہمیت
یہ کڑا جو تین ہزار سال پرانا ہے، مصر کے 21 ویں خاندان کے فرعون امینیموپ کے دور کا تھا، حال ہی میں ایک خفیہ نیلامی میں خطیر قیمت پر فروخت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس نے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق رپورٹ جمع کرادی
گرفتاری کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، مصری پولیس نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سونے کا قیمتی کڑا چوری کرکے 4 ہزار ڈالر میں نیلام کرنے کے الزام میں مصری عجائب گھر کے ایک ملازم اور اس کے 3 ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن ٹیم کی شاندار کارکردگی، وزراء کا اچانک معائنہ، اوورسیز پاکستانیوں کی زبردست خراجِ تحسین
کڑے کی خصوصیات
یہ 3 ہزار سال پرانا سونے کا کڑا لاپیس لازولی موتیوں سے مزین تھا۔ مصر کی وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عجائب گھر کے عملے نے ہفتے کے روز اس کڑے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گھر کے دروازے پر کھڑے شخص کو معمولی ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا
چوری کی منصوبہ بندی
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کڑے کو عجائب گھر کی کنزرویشن لیب کے اندر ایک بند دھاتی سیف میں رکھا گیا تھا جسے وہاں کے ایک ملازم نے 9 ستمبر کو ڈیوٹی کے دوران چرا لیا تھا۔ گرفتاری کے ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
نیلامی کا معاملہ
مصری پولیس کے مطابق، وسطی قاہرہ میں ایک چاندی کے تاجر نے اس کڑے کو فروخت کرنے میں مدد کی اور اسے 4 ہزار ڈالرز میں فروخت کیا گیا۔ کڑے کو خریدنے والے نے اسے خریدنے کے بعد پگھلا دیا۔








