ٹرمپ کا ادویات کی درآمدات پر 100فیصد ٹیکس کا اعلان، بھارت کا زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ
امریکی صدر کا نیا ٹیکس اعلان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ یکم اکتوبر سے وہ تمام برانڈیڈ اور پیٹنٹ شدہ فارما مصنوعات پر درآمدی ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد تک بڑھا دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی جنگی جنونیت نے عبادت گاہوں کو بھی نہ چھوڑا
نئے ٹیرف کے تحت آنے والی کمپنیاں
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ 100 فیصد ٹیرف اُن فارما کمپنیز پر لاگو ہوگا جن کے پاس پہلے سے امریکا میں پلانٹ یا پلانٹ پر تعمیر شروع نہ ہو چکی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مالی سال 25-2024 کا اختتام، ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ
ٹرمپ کی تجارتی پالیسی
یہ اقدام ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد گھریلو صنعتوں کو تحفظ اور مضبوط بنانا اور غیر ملکی اشیاء کے استعمال کو روکنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس نے چھینی گئی کار چند منٹ میں برآمد کرلی،مغوی شہری بازیاب
بھارتی میڈیا کی رپورٹ
دوسری جانب بھارتی میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا بھارتی ادویات کا بڑا خریدار ہے، بھارت کی برآمدات کا بڑا حصہ عام (generic) ادویات پر مشتمل ہے اور ان پر اس ٹیکس کے اطلاق کا امکان کم ہے، اس وجہ سے نئے ٹیرف کا ممکنہ اثر محدود رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر وی آئی پی لین کی سیکیورٹی ذمہ داری اے ایس ایف کے سپرد
بھارتی صنعت پر اثرات
بھارتی میڈیا کے مطابق اگر یہ ٹیکس براہِ راست پیٹنٹ اور برانڈیڈ ادویات پر لاگو ہوتا ہے تو یہ نیا اور اضافی ٹیرف بھارت کی صنعت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بھارتی اسٹاک مارکیٹ کا ردعمل
واضح رہے کہ گزشتہ روز سامنے آنے والی اس خبر نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر منفی ردِعمل ڈالا تھا جس کے نتیجے میں بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے شیئرز گر گئے تھے.








