گاڑی ہچکولے کھاتی مست شرابی کی طرح جھومتی آگے بڑھتی ہے، بیت الخلاء میں ٹک کر بیٹھنا محال ہو جاتا ہے، صاف پتہ چلتاہے کہ مسافر پر کیا بیتی ہے
مصنف کی شناخت
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 279
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن تقرریوں کا معاملہ، سپیکر نے کمیٹی بنانے سے انکار کر دیا
بیت الخلاء کی حقیقت
اور اب جب کہ بیت الخلاء تک آ ہی گئے ہیں تو کچھ ذکر اس کا بھی ہو جائے۔ لیکن ذرا ٹھہرئیے اگر عام گاڑی میں سفر ہوتا ہے تو اتنی آسانی سے وہاں جایا بھی نہیں جا سکتا۔ نجانے کتنے لوگوں کے سروں اور کاندھوں کے اوپر سے اچھلتے کودتے اور ان کے ہاتھ پیر کچلتے، کچھ دھکے دے کر اور کچھ کھا کر کچھ لوگ وہاں تک پہنچ بھی جاتے تھے تو وہ بڑے خوش قسمت ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا پہلی مرتبہ میٹرک سائنس پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ
پہلی رکاوٹ
لیکن بیت الخلاء کے سفر کی آخری رکاوٹ ایک نا پسندیدہ سا شخص ہوتا تھا جو اس کے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوتا تھا اور اندر جانے کے لیے اس کو باقاعدہ درخواست کرنا پڑتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں 90 لاکھ روپے کے زیورات چوری کرکے گڑھے میں چھپانے والی گھریلو ملازمہ گرفتار
بہترین اور بدترین تجربہ
غالباً پاکستانی ریل گاڑیوں میں ادنیٰ درجوں کے بیت الخلاء دنیا میں سب سے گندے اور غلیظ ہوتے ہیں۔ ابھی پوری طرح اندر داخل بھی نہیں ہوتے کہ بھاری بھرکم دروازہ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ بند ہوتا اور شانے یا کمر پر لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کو بھینسوں کے گوبر پر ٹیکس کی مد میں ساڑھے 4کروڑ روپے ماہانہ آمدن ہوگی، شہزاد اکبر
اندر کا منظر
اندر اسٹین لیس اسٹیل کے فرش پر ایک چبوترے پر منزل مقصود ہوتی ہے کونے میں ایک چھوٹا سا واش بیسن نصب ہوتا ہے جس کے اوپر ایک آئینہ لگا ہوتا ہے جو گردش ایام اور کثرت استعمال سے اتنا گھسا پٹا ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ خراب گھڑی کے وقت کی طرح ایک اندازے سے ہی مسافر کا عکس ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل نئی پٹری بچھائی جائے جو پرانے وقتوں کے سارے دکھوں کو بھلا کر خراماں خراماں افغانستان کی سرحد تک جا پہنچے
مسافر کی شرمندگی
جب کوئی مسافر اپنے گیلے کپڑوں کے ساتھ خجالت محسوس کرتا ہوا باہر آتا ہے تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ اندر نجانے اس بے چارے مسافر پر کیا بیتی ہے جس کا دْکھ یہ اپنی جھکی ہوئی نظروں سے بیان کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منڈی بہاؤالدین میں ایچ پی وی ویکسین لگانے پر 15 خواتین نے لیڈی ہیلتھ ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، مقدمہ درج
بہتری کی کوششیں
ترقی یافتہ ملکوں میں بیت الخلاء کی صفائی کا خود کار نظام ہوتا ہے جو نیچے ٹینکوں سے منسلک ہوتا ہے، ہمارے ہاں ابھی یہ سہولت نہیں ہے، اس لیے سارا کیا دھرا خلاؤں سے ہوتا ہوا نیچے پٹری کے عین وسط میں جا گرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہن کو بھائی سے جائیداد میں حصہ دلوانے کیلئے ہندو جج نے قرآن اٹھا لیا
مسافروں کی درخواست
اس لیے محکمے والے بار بار التماس کرتے ہیں کہ “معزز مسافروں سے گزارش ہے کہ جب گاڑی اسٹیشن پر رْکی ہوئی ہو تو بیت الخلاء استعمال نہ کریں۔” مگر کچھ پاکستانی معززین نے تو اس کے برعکس کرنے کا حلف اٹھایا ہوا ہوتا ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








