شہباز شریف کی دھاک، ٹرمپ کی منادی

غزہ میں مظالم کی مثال

غزہ میں ہوئے مظالم کی عصرِ حاضر میں مثال نہیں ملتی۔ غزہ جنگ بندی میں پاکستان نے اپنا فرض ادا کیا، لیکن کچھ لوگ غزہ کے معاملے پر سیاست کرنا چاہ رہے تھے۔ دیکھنا چاہیے کہ غزہ میں معصوم بچوں کا خون بہہ رہا تھا، تنقید کرنے والے اس وقت کہاں تھے؟

یہ بھی پڑھیں: انٹراپارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس؛آپ نے اس پوائنٹ کو پہلے کیوں نہیں اٹھایا؟چیف جسٹس پاکستان کا وکیل پی ٹی آئی کا استفسار

وزیراعظم کی باتیں

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ میری جگہ خود کو رکھ کر سوچیں، کیا آپ غزہ جنگ بند کرانے والے کو سلام نہ کرتے؟ غزہ میں جنگ بندی میں اہم کردار پر میں صدر ٹرمپ اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شرم الشیخ میں معاہدہ ہوا، غزہ میں لوگوں نے خوشی منائی، فلسطینی جنگ بند ہونے پر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ اس جنگ کو بند کرانے والے کا شکریہ ادا نہ کیا جائے گا؟

یہ بھی پڑھیں: انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کا غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام خطے میں استحکام کے لیے حقیقی خطرہ ہے،اسحاق ڈار

پاکستان کا مؤقف

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ فلسطین کی ریاست قائم ہونی چاہیے۔ فلسطین کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا برسلز کا تاریخی دورہ

شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس

بلاشبہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر ثالث ممالک مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے دستخط کرکے مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم رکھا ہے۔ غزہ امن سربراہ اجلاس میں 28 ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شرکت کرکے اس کو سند بخشی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اسپنرز کی سلو باؤلنگ کی وجہ سے باؤنڈیز نہیں لگا پائے، امریکی کپتان

وزیراعظم کی شمولیت

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اس کانفرنس میں بھی ہمیشہ کی طرح عالمی لیڈروں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر مصر کے شہر شرم الشیخ پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر مصر کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحی نے وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں جنسی زیادتی کے مجرم کو سرِعام پھانسی

غزہ امن منصوبہ

اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ تاریخی "غزہ امن منصوبہ" مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ہے۔ ہم شریک میزبانوں صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔ یہ لمحہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور اُن کے عزمِ صمیم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف نے 9مئی کے ملزمان کو سزائیں سنائے جانے پر ردعمل جاری کر دیا

امن کے حصول کی جدوجہد

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے ٹرمپ کی یکسو جدوجہد نے خونریزی اور تباہی کا خاتمہ ممکن بنایا۔ یہ ایک نسل کُش باب کے اختتام کی علامت ہے، ایسا باب جس کے دوبارہ کھلنے سے عالمی برادری کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی عوام ایک آزاد فلسطین کے حقدار ہیں، وہی فلسطین جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہو، جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مشتبہ شخص کو 3 ماہ حراست میں لیا جا سکے گا، انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش

ملاقاتیں اور یکجہتی

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے فلسطینی صدر محمود عباس، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، انڈونیشیا کے صدر، جرمن چانسلر، اسپین کے وزیراعظم، اٹلی کی وزیراعظم، اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقاتیں کیں اور فلسطینی عوام سے یکجہتی اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ، ڈیزل ٹینکر اور بس کے تصادم میں 42 افراد جاں بحق

امن کے نوبل انعام کیلئے نامزدگی

وزیراعظم نے شرم الشیخ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ایک اہم دن ہے، انتھک محنت کے بعد غزہ میں امن کے لیے کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے، وہ سب سے زیادہ نوبل انعام کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علم کے ذریعے ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنا

امدادی سامان کی روانگی

یہ امر بھی انتہائی قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے 100 ٹن سامان کی 24ویں امدادی کھیپ مصر بھجوادی گئی ہے۔ امدادی سامان علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ کیا گیا، جس میں راشن بیگز بشمول آٹا، چاول، کوکنگ آئل، چنے، تیار کھانا اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں۔

پاکستان کی حمایت

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان اور اہلِ پاکستان دامے، درمے، سخنے اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں، جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...