شہباز شریف کی دھاک، ٹرمپ کی منادی
غزہ میں مظالم کی مثال
غزہ میں ہوئے مظالم کی عصرِ حاضر میں مثال نہیں ملتی۔ غزہ جنگ بندی میں پاکستان نے اپنا فرض ادا کیا، لیکن کچھ لوگ غزہ کے معاملے پر سیاست کرنا چاہ رہے تھے۔ دیکھنا چاہیے کہ غزہ میں معصوم بچوں کا خون بہہ رہا تھا، تنقید کرنے والے اس وقت کہاں تھے؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی جانب سے بغیرراشن کارڈ 10ہزار حاصل کرنے کا آسان طریقہ جانیے
وزیراعظم کی باتیں
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ میری جگہ خود کو رکھ کر سوچیں، کیا آپ غزہ جنگ بند کرانے والے کو سلام نہ کرتے؟ غزہ میں جنگ بندی میں اہم کردار پر میں صدر ٹرمپ اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شرم الشیخ میں معاہدہ ہوا، غزہ میں لوگوں نے خوشی منائی، فلسطینی جنگ بند ہونے پر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ اس جنگ کو بند کرانے والے کا شکریہ ادا نہ کیا جائے گا؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنی عظمت دوبارہ حاصل کررہا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
پاکستان کا مؤقف
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ فلسطین کی ریاست قائم ہونی چاہیے۔ فلسطین کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 2011 میں لاہور میں دو نوجوان لڑکوں کے قتل میں ملوث امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی اصل کہانی
شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس
بلاشبہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس میں غزہ جنگ بندی معاہدے پر ثالث ممالک مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا نے دستخط کرکے مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر مرہم رکھا ہے۔ غزہ امن سربراہ اجلاس میں 28 ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شرکت کرکے اس کو سند بخشی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کی ہدایت
وزیراعظم کی شمولیت
وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اس کانفرنس میں بھی ہمیشہ کی طرح عالمی لیڈروں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر مصر کے شہر شرم الشیخ پہنچے، جہاں ایئرپورٹ پر مصر کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحی نے وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: نوکریاں اور لیپ ٹاپ کی تقسیم، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم سرخ لائنیں ہیں: مریم نواز
غزہ امن منصوبہ
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ تاریخی "غزہ امن منصوبہ" مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ہے۔ ہم شریک میزبانوں صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں۔ یہ لمحہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور اُن کے عزمِ صمیم کے بغیر ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پہلگام تحقیقات کے لیے تیار، بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا: احسن اقبال
امن کے حصول کی جدوجہد
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے ٹرمپ کی یکسو جدوجہد نے خونریزی اور تباہی کا خاتمہ ممکن بنایا۔ یہ ایک نسل کُش باب کے اختتام کی علامت ہے، ایسا باب جس کے دوبارہ کھلنے سے عالمی برادری کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی عوام ایک آزاد فلسطین کے حقدار ہیں، وہی فلسطین جو 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہو، جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو۔
یہ بھی پڑھیں: چار بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کے لیے دلہن بیاہ لائے، دلہن کی عمر کتنی ہے؟ سوشل میڈیا پر بحث شروع
ملاقاتیں اور یکجہتی
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے فلسطینی صدر محمود عباس، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشنیان، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس، انڈونیشیا کے صدر، جرمن چانسلر، اسپین کے وزیراعظم، اٹلی کی وزیراعظم، اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ملاقاتیں کیں اور فلسطینی عوام سے یکجہتی اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا سوا 2 ارب کی لاگت سے گرین کوریڈور منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
امن کے نوبل انعام کیلئے نامزدگی
وزیراعظم نے شرم الشیخ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ایک اہم دن ہے، انتھک محنت کے بعد غزہ میں امن کے لیے کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے، وہ سب سے زیادہ نوبل انعام کے مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور سے کراچی جانے والی بس اور ٹریلر کے تصادم میں 11 مسافر جاں بحق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس
امدادی سامان کی روانگی
یہ امر بھی انتہائی قابلِ تحسین ہے کہ پاکستان سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے لیے 100 ٹن سامان کی 24ویں امدادی کھیپ مصر بھجوادی گئی ہے۔ امدادی سامان علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے روانہ کیا گیا، جس میں راشن بیگز بشمول آٹا، چاول، کوکنگ آئل، چنے، تیار کھانا اور ڈبہ بند فروٹ شامل ہیں۔
پاکستان کی حمایت
وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں حکومتِ پاکستان اور اہلِ پاکستان دامے، درمے، سخنے اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں، جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








