احتجاج کرنے والوں سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے پوچھیں احتجاج کا مقصد فلسطین تھا یا کچھ اور؟محسن نقوی
احتجاج کا مقصد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے پوچھیں کہ احتجاج کا مقصد فلسطین تھا یا کچھ اور؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 9 فیصد لوگوں نے میری سوچ سے اختلاف کیا، ڈاکٹر ذاکر نائیک
کابینہ اجلاس کی پریس کانفرنس
اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سوائے مذہبی جماعت کے عہدیداران کے کسی بھی مدرسے یا علماء کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا، کسی مذہبی جماعت اور علماء کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو نادہندگان کی باری آ گئی۔۔۔پنجاب حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا
مذاکرات کی تفصیلات
تحریک لبیک والوں سے آخری وقت تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے کہا گیا کہ واپس چلے جائیں، کچھ نہیں کہا جائے گا، تشدد صرف ان پر ہوا جو اسلحہ اٹھائے ہوئے تھے۔ مسلح جتھے نے پوزیشنیں لی ہوئیں تھیں اور براہ راست فائرنگ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف نے غزہ بورڈ آف پیس کے مسودے پر دستخط کردیئے۔
پر امن مظاہرہ کا حق
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ تحریک لبیک والوں سے 2 دن سے مذاکرات ہورہے تھے، آج بھی کہہ رہے ہیں کہ پرامن مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔ ہمارے پاس فوٹیج ہیں کہ جلوس میں گاڑیاں گن پوائنٹ پر حاصل کی گئیں۔ سڑک کلیئر کروانے والی تمام فورسز شاباش کی مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی حکومت کرم کے حالات پر تماشا دیکھنا بند کرے: بیرسٹر سیف
ایک بڑی احتجاجی تحریک
اُس مسلح جتھے نے گھروں اور مساجد کے میناروں پر پوزیشنیں لی ہوئی تھیں، پچھلے دو تین ماہ سے ایسا کیا ہوگیا کہ ہر 15 دن بعد ایک بڑا احتجاج ہونا ضروری ہے۔ ہم آج بھی کہہ رہے ہیں کہ پرامن احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے گلگت بلتستان سے متعلق سفارشات کی منظوری دے دی، فاقی وزیر توانائی اویس لغاری
معلومات کا تبادلہ
اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اٹلی میں مظاہرہ ہوا کہیں پتا نہیں ٹوٹا، تحریک لبیک احتجاج کے لیے نکلی تو جدید اسلحہ، اینٹیں پتھر تھیں، جدید اسلحہ سے لیس ہو کر سرکاری، نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
فلسطین کے مسئلے پر بیان
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ تھا، دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں احتجاج ہوئے۔ الحمداللّٰہ اب مسئلہ حل ہوگیا ہے، اس میں پاکستان کا بھی کردار ہے۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے لیکن کسی کو قتل و غارت کی اجازت نہیں دے سکتے، ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔








