احتجاج کرنے والوں سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے پوچھیں احتجاج کا مقصد فلسطین تھا یا کچھ اور؟محسن نقوی
احتجاج کا مقصد
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے پوچھیں کہ احتجاج کا مقصد فلسطین تھا یا کچھ اور؟
یہ بھی پڑھیں: امریکا جانے والے غیر ملکیوں پر 250 ڈالر کی اضافی ویزا فیس عائد
کابینہ اجلاس کی پریس کانفرنس
اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سوائے مذہبی جماعت کے عہدیداران کے کسی بھی مدرسے یا علماء کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا، کسی مذہبی جماعت اور علماء کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: انگریزی پر عبور نہ رکھنے کی وجہ سے ہونیوالی تنقید پر بالآخر محمد رضوان نے خاموشی توڑ دی، واضح جواب دیدیا
مذاکرات کی تفصیلات
تحریک لبیک والوں سے آخری وقت تک مذاکرات ہوتے رہے، ان سے کہا گیا کہ واپس چلے جائیں، کچھ نہیں کہا جائے گا، تشدد صرف ان پر ہوا جو اسلحہ اٹھائے ہوئے تھے۔ مسلح جتھے نے پوزیشنیں لی ہوئیں تھیں اور براہ راست فائرنگ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: بشریٰ بی بی کی ضمانت درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
پر امن مظاہرہ کا حق
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ تحریک لبیک والوں سے 2 دن سے مذاکرات ہورہے تھے، آج بھی کہہ رہے ہیں کہ پرامن مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔ ہمارے پاس فوٹیج ہیں کہ جلوس میں گاڑیاں گن پوائنٹ پر حاصل کی گئیں۔ سڑک کلیئر کروانے والی تمام فورسز شاباش کی مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے پاکستان کا اسکواڈ سری لنکا روانہ
ایک بڑی احتجاجی تحریک
اُس مسلح جتھے نے گھروں اور مساجد کے میناروں پر پوزیشنیں لی ہوئی تھیں، پچھلے دو تین ماہ سے ایسا کیا ہوگیا کہ ہر 15 دن بعد ایک بڑا احتجاج ہونا ضروری ہے۔ ہم آج بھی کہہ رہے ہیں کہ پرامن احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ننکانہ صاحب: خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق، 4 افراد زخمی
معلومات کا تبادلہ
اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ اٹلی میں مظاہرہ ہوا کہیں پتا نہیں ٹوٹا، تحریک لبیک احتجاج کے لیے نکلی تو جدید اسلحہ، اینٹیں پتھر تھیں، جدید اسلحہ سے لیس ہو کر سرکاری، نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
فلسطین کے مسئلے پر بیان
وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ تھا، دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں احتجاج ہوئے۔ الحمداللّٰہ اب مسئلہ حل ہوگیا ہے، اس میں پاکستان کا بھی کردار ہے۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے لیکن کسی کو قتل و غارت کی اجازت نہیں دے سکتے، ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔








