لنڈے کے کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے
پرانی کپڑوں کی درآمد پر ٹیکس کا اثر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) رواں برس حکومت کی جانب سے استعمال شدہ پرانے کپڑوں کی درآمد پر 200 روپے فی کلو گرام ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: دورہ پاکستان پر بھارتی کرکٹ بورڈ کو سیکیورٹی تحفظات ہیں، بھارتی وزارت خارجہ
تاجروں کی تشویش
تاجروں کے مطابق حکومت کی جانب سے عائد کردہ یہ ٹیکس استعمال شدہ گرم ملبوسات کی فی عدد قیمت میں 500 سے 1500 روپے تک اضافہ کر سکتا ہے، جس سے سفید پوش اور غریب طبقے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی تیز رفتاری اور کم خرچ کی بناء پر ریل گاڑی کا سفر فوراً ہی بہت مقبول ہو گیا، اس وقت کراچی سے کوٹری تک کا رعایتی کرایہ محض 2 آنے رکھا گیا۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
تاجروں کا کہنا ہے کہ اس بار استعمال شدہ گرم ملبوسات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا عزم ہے کہ وہ جتنی قیمت کم کر سکتے ہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے ون ڈے میں زمبابوے سے شکست کے بعد محمد رضوان کا بیان سامنے آگیا
ڈیوٹیز کا بوجھ
تاجروں کے مطابق ڈیوٹیز میں اضافے کی وجہ سے انہوں نے مال پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ پہلے جو مال کنٹینر کے حساب سے آتا تھا، اب اس پر اتنی ڈیوٹیز لگ چکی ہیں کہ یہ مال کسٹمر کی پہنچ سے آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا ہے۔
حکومت سے مطالبہ
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استعمال شدہ ملبوسات کی درآمد پر عائد ٹیکسوں کی شرح کو کم کرے تاکہ سفید پوش اور غریب طبقے کے افراد لنڈا بازاروں سے سستے داموں خریداری کر سکیں۔








