74 سالہ شخص نے کروڑوں روپے ادا کرکے 24 سالہ خاتون سے شادی کرلی
شادی کی حیران کن خبر
جکارتا (ویب ڈیسک) انڈونیشیا میں ایک 74 سالہ شخص نے کروڑوں روپے خرچ کرکے خود سے 50 سال کم عمر خاتون سے شادی کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کے دورے سے متعلق غیرمصدقہ خبر دینے پر جیواور خبردینے والے صحافی کی معذرت
واقعت کا مقام
تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے صوبے ایسٹ جاوا کے علاقے Pacitan Regency میں یہ حیران کن واقعہ سامنے آیا۔74 سالہ Tarman نے 24 سالہ Shela Arika سے شادی کی اور اس موقع پر دلہن کو 3 ارب انڈونیشین روپے (5 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) ادا کیے۔
یہ بھی پڑھیں: راوی بیڈ پر تمام تعمیرات غیر قانونی، ایک کلومیٹر کے بیڈ پر آبادیوں کو ہٹایا جائے گا: سی ای او روڈا
اس شادی کی تقریب
شادی کی پرتعیش تقریب یکم اکتوبر کو ہوئی اور اس موقع پر دلہن کو چیک بھی دیا گیا۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس جوڑے کی ملاقات کیسے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی : موبائل فون شاپ پر ڈکیتی، 4 ملزمان لاکھوں مالیت کے فونز لے گئے
موقع پر خوشی کا ماحول
دلہن کو چیک پیش کیے جانے کے موقع پر شادی میں موجود مہمانوں نے خوشی کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر شادی کے تحائف لینے کی بجائے میزبان کی جانب سے مہمانوں کو ایک لاکھ انڈونیشین روپے نقد دیے گئے۔ ویسے تو یہ شادی شاید وائرل نہ ہوتی مگر اس تقریب کی ویڈیو گرافی کرنے والی کمپنی کی وجہ سے ایسا ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، مری کے ترقیاتی پروگرام کے لیے اربوں روپے کے تاریخی ترقیاتی پیکج کی منظوری
شادی میں مشکلات
ویڈنگ فوٹوگرافی کمپنی کے مطابق شادی کے کھانے کے بعد نوبیاہتا جوڑا ادائیگی کیے بغیر چلا گیا اور ان سے رابطہ بھی نہیں ہوسکا۔ آن لائن یہ افواہیں بھی پھیل گئی تھیں کہ Tarman نہ صرف ادائیگی سے قاصر رہا بلکہ وہ وہاں سے ایک موٹرسائیکل پر فرار ہوگیا۔ کچھ افراد کا تو خیال تھا کہ اربوں روپے کا چیک بھی جعلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلئے لیز پر بحری جہاز لینے کی ہدایت
افواہوں کا جواب
کچھ دن بعد Tarman نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ دلہن کا دیا جانے والا چیک اصلی تھا اور ان افواہوں کی تردید کی کہ وہ شادی کے بعد فرار ہوگیا تھا۔
خاندان کا موقف
دلہن کے خاندان نے بھی ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جوڑا ہنی مون پر گیا ہوا ہے۔ ویڈنگ فوٹوگرافی کمپنی کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے کے بعد حکام نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کی ہے。








