چین ماڈرن وار فیئر یونیورسٹی ہے، پاکستان وہاں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے اور بھارت ابھی پہلی جماعت میں داخلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے، تجزیہ کار عثمان شامی
تجزیہ کار عثمان شامی کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)تجزیہ کار عثمان شامی نے کہا ہے کہ دوبارہ جارحیت کرنا بھارت کی خواہش تو ہے لیکن ابھی تک ان میں اتنی ہمت پیدا نہیں ہوئی۔ جب 10 مئی کی جنگ ختم ہوئی تو ان کے آرمی اور ایئر چیف نے پاکستان کو دھمکیاں تو بہت لگائیں لیکن ایک چیز کا اعتراف کیا کہ ملٹی ڈومین آپریشن ان کے لیے ایک نئی چیز ہے اور انہیں بھی یہ صلاحیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوابی کارروائی میں اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہوگئی؟
فوجی طاقت اور جدید جنگ
انہوں نے کہا کہ کس کی فوج کتنی بڑی ہے، ماڈرن وار فیئر میں اس کی اہمیت اتنی نہیں ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں کون آگے ہے۔ اس شعبے میں چین ماڈرن وار فیئر کی یونیورسٹی ہے، پاکستان وہاں پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ ہے اور بھارت ابھی پہلی جماعت میں داخلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
بھارت کی فوجی تربیت اور چیلنجز
عثمان شامی نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ آٹھ دس سال سے ٹریننگ کر رہا ہے، ملٹی ڈومین وار فیئر اتنا آسان نہیں ہے، بھارت کو یہ سیکھنے کے لیے ابھی وقت لگے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ مودی نے اپنی فوجی قیادت کو بھی ہائی جیک کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشتبہ شخص کی ٹرمپ کے ریزورٹ میں داخل ہونے کی کوشش، سیکیورٹی اہلکاروں نے مار ڈالا
افغانستان کی صورتحال اور حکمت عملی
تجزیہ کار نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی بھی اسی وجہ سے ہے کیونکہ بھارت کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے، ان کی قابلیت نہیں ہے، اس لیے اب بھارت نے سوچا کہ کرائے کے قاتل حاصل کر کے دوسری جانب سے در اندازی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان
آرمی چیف کا مشورہ
انہوں نے کہا کہ آج اپنے خطاب میں آرمی چیف نے نریندر مودی کو بالکل ٹھیک مشورہ دیا ہے کہ اسے برابری کی سطح پر پاکستان سے بات کرنی چاہیے اور امن کا راستہ نکالنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے شہریوں کے لیے مفت سولر سکیم کا آغاز کردیا
چین کا گولڈن ڈوم سسٹم
دنیا نیوز کے پروگرام 'تھنک ٹینک' میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیا تھا کہ میں ایک گولڈن ڈوم بنانے لگا ہوں۔ چین نے گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم بنا لیا ہے اور اس کا ایک پروٹو ٹائپ تائیوان کے قریب سرحد پر نصب کردیا گیا ہے۔ یہ سسٹم بیک وقت ایک ہزار میزائل اور ڈرونز کو ٹریک اور ٹارگٹ کر سکتا ہے، یہ ہائپر سونک میزائل کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
جدید دفاعی نظام کی خصوصیات
حال ہی میں ایران اسرائیل جنگ کے دوران جب ایران نے ہائپر سونک میزائل مارے تو اسرائیل انہیں نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ یہ سسٹم آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرتا ہے، یہ سمندر اور زمین پر موجود ریڈار اور سیٹلائٹس کے ساتھ اینٹی گریٹ ہو جاتا ہے، پھر تمام ڈیٹا کو دیکھ کر آنے والے خطرے کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا دفاعی نظام ہے جو چین کے کسی بھی حصے پر آنے والے خطرے کو نشانہ بنائے گا۔








