ملائیشیا کے وزیراعظم سے رابطہ، شہباز شریف نے افغانستان سے دہشتگردی پر اعتماد میں لیا
وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے ہم منصب انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان
پاک ملائیشیا تعلقات اور علاقائی صورتِ حال
روزنامہ جنگ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک ملائیشیا تعلقات، علاقائی صورتِ حال اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف اور انور ابراہیم نے خطے کی صورتِ حال اور امن کی کوششوں پر بھی بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ انڈونیشیا کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟ معروف صحافی نجم سیٹھی کا اہم تجزیہ
پاکستان کی افغان سرحدی صورتحال کا ذکر
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کو پاک افغان سرحدی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا، پہلا روزہ 19 فروری کو ہوگا
دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو افغان سرزمین سے سرحد پار دہشت گردی کا مسلسل سامنا ہے۔ افغان حکام کو چاہیے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مستقبل میں اہم اور بڑا جنکشن بننے جا رہا ہے، ریل گاڑیاں خنجراب اور کاشغر تک چلیں گی، جہاں سے اسے چین کے مختلف شہروں سے ملا دیا جائے گا۔
افغان حکام کی درخواست پر جنگ بندی کی پیشکش
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام کی درخواست پر دوحہ میں مذاکرات میں عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔ سرحدی علاقوں میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں سیاحوں کی موت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے نظام کی موت ہوئی ہے، عطا اللہ تارڑ
دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج، فتنہ ہندوستان، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم کی تشویش
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔








