دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے
پشاور میں گورنر کی مرکزتی گفتگو
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں ترقی اور خوش حالی کے لیے قیام امن کو ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک و قوم کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جاپان کے ماؤنٹ فیوجی سے برف غائب
ملاقات کا پس منظر
گورنر خیبرپختونخوا کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، گورنر فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی، جس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑی ریاست سے جیت کا دعویٰ
آپریشن کی تفصیلات
ملاقات میں صوبے کے مختلف اضلاع میں فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن، پاک-افغان صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے مزید 10 ہزار پاکستانیوں کو حج کی اجازت دیدی
شہداء کی یاد
گورنر خیبرپختونخوا اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس ٹریننگ سینٹر اور نادرا آفس ڈی آئی خان پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سری لنکا سیریز کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا
بحالی کا عمل
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں پولیس ٹریننگ سینٹر اور نادرا آفس ڈی آئی خان کی متاثرہ عمارت کی ازسر نو بحالی پر بھی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی قسم کی برف پگھلتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، فیصل واوڈا
گورنر کی رائے
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن کے داعی ہیں اور صوبے کی ترقی و خوش حالی کے لیے قیام امن ناگزیر ہے۔ ان کے بقول ملک و قوم کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ کا عزم
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی کاوشوں کا احترام کرتے ہیں۔








