سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست پر اعتراضات دور
ملاقات کی درخواست
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 6.2 ریکارڈ
عدالت کی سماعت
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب طاہر نے رجسٹرار آفس اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد کا پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس کا دورہ، فلڈ سمولیشن ماڈل پر بریفنگ
نوٹس جاری
عدالت نے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج اور راستوں کی بندش کے باعث ملکی و غیرملکی پروازیں منسوخ
وکالت کا بیان
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات کی پٹیشن پر رجسٹرار آفس نے متعدد اعتراضات عائد کر رکھے ہیں۔ اعتراض ہے کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک عدالتی فیصلہ آچکا ہے۔ یہ بھی اعتراض ہے کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بغیر کیسے درخواست دائر کرسکتے ہیں؟ یہ اعتراض نہیں بنتا کیونکہ ابھی تو کابینہ بنی ہی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوئی ناردرن کا مالی سال 2023-24 میں تاریخ کا بلند ترین منافع اور حصہ داران کے لیے 75 فیصد غیرمعمولی ڈیویڈنڈ کا اعلان
رجسٹرار آفس کے اعتراضات
عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات کی درخواست پر متعدد اعتراضات عائد کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے غذر میں 300 انسانی جانیں بچانیوالے چرواہوں کو اسلام آباد مدعو کرلیا
پہلے کے فیصلے کی بنیاد
رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراضات میں کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے دائر پٹیشنز یکجا کر کے عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔ عدالت فیصلے میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا طریقہ کار اور ایس او پی طے کیے جا چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز کا کردار
رجسٹرار آفس نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز بانی پی ٹی آئی سے ہفتہ وار ملاقات کرنے والوں کی فہرست تیار کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، پی ٹی آئی کے متعلقہ آفس ہولڈرز کو کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔








