سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست پر اعتراضات دور
ملاقات کی درخواست
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں، میرا یہ بیان نامکمل چلایا گیا: وزیرداخلہ کا شکریہ
عدالت کی سماعت
روزنامہ جنگ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب طاہر نے رجسٹرار آفس اعتراضات کے ساتھ سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
نوٹس جاری
عدالت نے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب، آئی جی پولیس اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 23 اکتوبر کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: زندہ مرغی اور گوشت کی قیمت میں کمی
وکالت کا بیان
وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات کی پٹیشن پر رجسٹرار آفس نے متعدد اعتراضات عائد کر رکھے ہیں۔ اعتراض ہے کہ اس حوالے سے پہلے ہی ایک عدالتی فیصلہ آچکا ہے۔ یہ بھی اعتراض ہے کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بغیر کیسے درخواست دائر کرسکتے ہیں؟ یہ اعتراض نہیں بنتا کیونکہ ابھی تو کابینہ بنی ہی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت امیر خسروؒ کے عرس میں شرکت کیلئے 188 پاکستانی زائرین کو ویزے جاری
رجسٹرار آفس کے اعتراضات
عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ واضح رہے کہ رجسٹرار آفس نے بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقات کی درخواست پر متعدد اعتراضات عائد کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: پاکستان کے درجنوں ماہرین نے چین میں زرعی تربیت مکمل کرلی، پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری
پہلے کے فیصلے کی بنیاد
رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کیے گئے اعتراضات میں کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقاتوں کے حوالے سے دائر پٹیشنز یکجا کر کے عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔ عدالت فیصلے میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا طریقہ کار اور ایس او پی طے کیے جا چکے ہیں۔
پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز کا کردار
رجسٹرار آفس نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے آفس ہولڈرز بانی پی ٹی آئی سے ہفتہ وار ملاقات کرنے والوں کی فہرست تیار کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، پی ٹی آئی کے متعلقہ آفس ہولڈرز کو کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔








