پاکستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے دم لیں گے: محسن نقوی
وفاقی وزیر محسن نقوی کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے فتنہ الہندوستان کا خاتمہ کرکے دم لیں گے، بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا کی ملاقات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید یہ کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشنز اور پاک افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر بھی گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، فہرست میں کراچی کا کونسا نمبر ہے؟ جانیے
سکیورٹی فورسز کی کاوشوں کی تعریف
خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پولیس ٹریننگ سینٹر اور نادرا آفس ڈی آئی خان پر حملوں کے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فاسٹ بولر وقاص مقصود کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
دہشت گردی کے خلاف عزم
محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہادری سے دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کیا ہے۔ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد پاکستان کی یکجہتی اور امن کے دشمن ہیں، درندہ صفت عناصر کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل عیدالاضحیٰ سے 4 یا 5 دن پہلے کیا گیا : صحافی زاہد گشکوری
وفاقی حکومت کا تعاون
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و امان اور انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا پیغام
اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام امن کے داعی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی ترقی و خوشحالی کے لیے قیام امن ناگزیر ہے، اور ملک و قوم کے دشمن دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔








