سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست ؛تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کااظہار
الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی درخواست پر سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست پر سماعت کے دوران تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اس درخواست کا فرانزک ہونا چاہئے، لیگل ایڈوائزر سے مشورہ کریں، غلطی سے درخواست دی تو معافی مانگ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوسرا بحری جہاز بھی ڈبو دیا، عملے کے 4 ارکان ہلاک
درخواست کی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست پر سماعت ہوئی، ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک دھماکہ کرنے والے خودکش حملہ آور کا سر مل گیا، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی
مشترکہ انتخابی نشان کی استدعا
درخواست میں مشترکہ انتخابی نشان الاٹ کرنے کی استدعا کی گئی، تاہم تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی، عمارتوں کو نقصان، گاڑیاں الٹ گئیں
ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست
مصطفی نواز کھوکھر نے ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست دائر کردی، اور کہا کہ تحریک تحفظ آئین کے نام سے محمود اچکزئی کی سربراہی میں اتحاد قائم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: رانا ثنا اللہ کا ایاز لطیف پلیجو اور زین شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ، کینال زوکارپوریٹ فارمنگ کے مسئلے پر مذاکرات کی پیشکش
الیکشن کمیشن کی مداخلت
ممبر پنجاب نے کہا کہ خود سے تو نوٹس جاری نہیں کیا، کسی نے تو درخواست دی ہوگی۔ الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ درخواست پاکستان امن تحریک کے لیٹر ہیڈ پر موصول ہوئی ہے۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اس درخواست کا فرانزک ہونا چاہئے، لیگل ایڈوائزر سے مشورہ کریں، غلطی سے درخواست دی تو معافی مانگ لیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر اب ڈر گئے ہیں تو درخواست واپس لیں، ورنہ کارروائی ہوگی۔
درخواست مسترد کرنے کی استدعا
مصطفی نواز کھوکھر نے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی، اور الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں سے تحریری بیانات طلب کرلئے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن مناسب حکم جاری کرے گا۔








