سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست ؛تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کااظہار
الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی درخواست پر سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست پر سماعت کے دوران تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اس درخواست کا فرانزک ہونا چاہئے، لیگل ایڈوائزر سے مشورہ کریں، غلطی سے درخواست دی تو معافی مانگ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی میں آل پارٹیز امن جرگہ کے انعقاد پر اسپیکر بابر سلیم سواتی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مبارکباد کے مستحق ہیں،صحافی حامدمیر
درخواست کی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، الیکشن کمیشن میں سیاسی اتحاد کی رجسٹریشن درخواست پر سماعت ہوئی، ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی سماعت کےلیے پانچ بینچز تشکیل
مشترکہ انتخابی نشان کی استدعا
درخواست میں مشترکہ انتخابی نشان الاٹ کرنے کی استدعا کی گئی، تاہم تینوں درخواست گزاروں نے درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ ہزار سے پانچ لاکھ تک کا جرمانہ، سندھ پولیس کا ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لیے اصلاحات کا اعلان
ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست
مصطفی نواز کھوکھر نے ریکارڈ کی فراہمی کی درخواست دائر کردی، اور کہا کہ تحریک تحفظ آئین کے نام سے محمود اچکزئی کی سربراہی میں اتحاد قائم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: “یہ اپنی موت کی طرف خود بڑھنے جیسا ہے”
الیکشن کمیشن کی مداخلت
ممبر پنجاب نے کہا کہ خود سے تو نوٹس جاری نہیں کیا، کسی نے تو درخواست دی ہوگی۔ الیکشن کمیشن حکام نے کہا کہ درخواست پاکستان امن تحریک کے لیٹر ہیڈ پر موصول ہوئی ہے۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ اس درخواست کا فرانزک ہونا چاہئے، لیگل ایڈوائزر سے مشورہ کریں، غلطی سے درخواست دی تو معافی مانگ لیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ اگر اب ڈر گئے ہیں تو درخواست واپس لیں، ورنہ کارروائی ہوگی۔
درخواست مسترد کرنے کی استدعا
مصطفی نواز کھوکھر نے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی، اور الیکشن کمیشن نے درخواست گزاروں سے تحریری بیانات طلب کرلئے۔ ممبر بلوچستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن مناسب حکم جاری کرے گا۔








