شمشان گھاٹ کیس: اب تو کابینہ بھی نہیں ہے کیسے منظوری ملے گی؟ پشاور ہائیکورٹ
پشاور ہائیکورٹ میں شمشان گھاٹ کیس
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ میں شمشان گھاٹ سے متعلق کیس میں جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اب تو کابینہ بھی نہیں ہے تو کیسے منظوری ملے گی؟
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں بیوی نے شراب کے نشے میں دھت شوہر کو جھگڑا کرنے پر ڈنڈے مار مار کر قتل کردیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے شمشان گھاٹ سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: خان اکیڈمی کا پاکستان میں اساتذہ کو اے آئی ٹولز کے ذریعے تربیت کی فراہمی کا معاہدہ
درخواست گزار کے دلائل
وکیل درخواست گزار تیمور خان نے دلائل دیئے کہ خیشگی بالا میں شمشان گھاٹ کے لیے زمین کی نشاندہی کی گئی ہے، جس زمین کی نشاندہی کی گئی ہے وہ محکمہ ٹورازم کی ملکیت ہے، شمشان گھاٹ تک میت لے جانے کے لیے بس کے لیے بھی درخواست دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگہ، پاکستان کے کتنے شہری بھارت میں پھنسے ہوئے ہیں؟ جانئے
جسٹس کے ریمارکس
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ اب تو کابینہ بھی نہیں ہے تو کیسے منظوری ملے گی؟ آپ خود بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں جس پر بابا گرپال سنگھ نے کہا کہ جی میں اقلیت کی نشست پر اپوزیشن سے ممبر اسمبلی ہوں۔
آئندہ کی سماعت
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تو کابینہ نہیں ہے اس لیے مہینے سے پہلے تاریخ نہیں دے سکتے، بعدازاں عدالت نے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کر دی۔








