سرحدوں کی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، آرمی چیف
آرمی چیف کا بیان
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں کی کسی بھی قسم کی براہ راست یا بالواسطہ خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برفباری، وادیاں برف سے ڈھک گئیں
نیشنل ورکشاپ میں شرکت
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں منعقدہ 17ویں نیشنل ورکشاپ کے دوران بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومت کے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، ہمارے 2 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے: وزیر اعظم
بلوچستان کی ترقی اور نوجوانوں کا کردار
آرمی چیف نے بلوچستان کے وسیع اقتصادی امکانات کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور انہیں بااختیار بنانے میں سول سوسائٹی کے کردار کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے سی ڈی اے ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی
بلوچستان کی اہمیت
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہاں کے لوگ محب وطن، باصلاحیت اور باہمت ہیں اور ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے نوجوانوں کا فعال کردار ناگزیر ہے، اس لیے ذاتی و سیاسی مفادات پر مبنی ایجنڈوں کو ترک کرکے قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا فیلڈ مارشل، ائیر چیف مارشل اور نیول چیف سے ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان کا امن و استحکام کا عزم
انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج ملک میں انتشار اور ترقی مخالف بیانیہ پھیلانے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں، تاہم پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی سرحدی خلاف ورزی پر بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دیا جائے گا۔
سوال و جواب کا سیشن
آئی ایس پی آر کے مطابق ورکشاپ کے اختتام پر سوال و جواب کا تفصیلی سیشن بھی منعقد کیا گیا۔








