بھارتی پنجاب کے سابق ڈی جی پی کے بیٹے کی موت کا معاملہ مزید الجھ گیا

نیا موڑ: عاقل اختر کی موت کا مقدمہ

چندی گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی پنجاب کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) محمد مصطفیٰ، ان کی اہلیہ اور دیگر اہل خانہ کے خلاف ان کے بیٹے عاقل اختر کی موت کے مقدمے میں نیا موڑ آ گیا ہے، کیونکہ ایک دوسرا ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں متوفی نے اپنے ہی پہلے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں شوٹنگ کے قومی کوچ کو 17 سالہ شوٹر کے ساتھ ریپ کے الزام میں گرفتار کیا گیا

پولیس کی تحقیقات اور مقدمہ

انڈیا ٹوڈے کے مطابق پولیس نے محمد مصطفیٰ، ان کی اہلیہ سابق وزیر رضیہ سلطانہ، بیٹی اور بہو کے خلاف قتل اور سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے، جب کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی قائم کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا فلسطینی ریاست بننے تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کرنے کا اعلان

عاقل اختر کی پراسرار موت

عاقل اختر، جو سابق ڈی جی پی (ہیومن رائٹس) محمد مصطفیٰ اور سابق وزیر و کانگریس رہنما رضیہ سلطانہ کے بیٹے تھے، چند دن قبل پنجکولا کے اپنے گھر میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔ موت سے کچھ دن پہلے عاقل نے ایک ویڈیو ریکارڈ کیا تھا جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے والد کا ان کی اہلیہ سے ناجائز تعلق ہے، اور اہلِ خانہ ان کے قتل کی سازش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا؟

عاقل کا دعوی اور ویڈیو کی اہمیت

عاقل نے ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا، زبردستی بحالی مرکز (rehab) بھیجا گیا، اور ان کی کاروباری آمدنی روک دی گئی۔ انہوں نے ذہنی اذیت، جسمانی تشدد اور جھوٹے کیسز کی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے نئی سیاسی جماعت ’امریکا پارٹی‘ بنانے کا اعلان کر دیا۔

پڑوسی کی شکایت

یہ ویڈیو ان کے پڑوسی شمش الدین چوہدری نے پولیس کو جمع کرایا، جنہوں نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریری شکایت بھی دی۔ شمش الدین کی شکایت میں کہا گیا کہ عاقل کی موت مشکوک حالات میں ہوئی ہے اور ویڈیو میں ان کے بیانات واضح طور پر خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے ٹیکس قواعد نے تاجروں کو الجھن میں ڈال دیا، قواعد واضح کیے بغیرشرائط لاگو نہ کی جائیں، چیئرمین پی سی ڈی ایم اے کا مطالبہ

پولیس کا مطالبہ

شکایت میں پولیس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عاقل کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ڈیجیٹل شواہد، کال ریکارڈز، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اہل خانہ کے ممکنہ کردار کی جامع جانچ کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کی اہلیہ کی تصویر سامنے آ گئی

دوسرا ویڈیو منظر عام پر

تاہم اب ایک دوسرا ویڈیو منظرِ عام پر آیا ہے جس میں عاقل اپنے اہل خانہ کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پہلے جو الزامات اس نے لگائے تھے وہ بے بنیاد تھے۔ اس ویڈیو میں وہ کہتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار تھا اور "شیزوفرینیا" (schizophrenia) میں مبتلا تھا، اسی بیماری کے دوران اس نے وہ الزامات لگائے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ٹرک نہر میں گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس، رپورٹ طلب

عاقل کا اعتراف

عاقل ویڈیو میں کہتا ہے “میری بہن میرا بہت خیال رکھتی تھی، وہ مجھے دوائی دیتی تھی، مگر میں سمجھتا تھا کہ وہ زہر دے رہی ہے، اس لیے دوائی نہیں لیتا تھا۔ وہ مزید کہتا ہے “اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ایسا اچھا خاندان ملا ہے۔” تاہم ویڈیو کے آخر میں اس کا لہجہ ایک بار پھر بدل جاتا ہے، اور وہ کہتا ہے “دیکھتے ہیں زندگی میں کیا ہوتا ہے، آخر میں یہ مجھے مار دیتے ہیں تو دیکھ لیں گے۔”

مقدمہ کی تفصیلات

پولیس کے مطابق، مقدمہ محمد مصطفیٰ، ان کی اہلیہ رضیہ سلطانہ، بیٹی اور بہو کے خلاف بھارتیا نیایا سنہیتا کی دفعات 103(1) (قتل کی سزا) اور 61 (فوجداری سازش) کے تحت درج ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...