وفاقی ٹیکس محتسب کا سمگل گاڑیوں کے بارے میں بڑا فیصلہ، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
اسلام آباد میں فیڈرل ٹیکسس محتسب کی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل ٹیکسس محتسب (ایف ٹی او) نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمے اور پولیس حکام غیر کسٹم شدہ گاڑیاں (NCP Vehicles) کو وفاقی کسٹمز ایکٹ 1969ء کے بجائے صوبائی قوانین کے تحت روک کر ضبط اور نیلام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کا سندھ حکومت کے خلاف بیان
تحقیقاتی کارروائی کا آغاز
وفاقی محاصل کے تحفظ اور پاکستان کسٹمز کے آئینی دائرہ اختیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایف ٹی او نے فیڈرل ٹیکسس محتسب آرڈیننس 2000ء کی دفعہ 9(1) کے تحت از خود نوٹس کی بنیاد پر تحقیقاتی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم، عظمت پور میں ٹینٹ سٹی مکمل کر لیا گیا
صوبائی قوانین کی خلاف ورزی
ازخود نوٹس کے مطابق، بڑی تعداد میں این سی پی اور ٹیمپر شدہ گاڑیاں صوبائی حکام نے قبضے میں لے رکھی ہیں، جس کے باعث ان گاڑیوں پر واجب الادا کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں ہورہے۔ یہ کارروائیاں صوبائی قواعد کے تحت کی جارہی ہیں، جو آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 143 اور کسٹمز ایکٹ 1969ء سے متصادم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیفنس میں شہری اپنی گاڑی کا ٹائر بدلوانے پٹرول پمپ آیا تو ٹائر شاپ کے ورکر نے ایسی حرکت کردی جس کی شاید کسی کو توقع ہی نہ ہوگی، ویڈیو وائرل
کسٹمز ایکٹ کی اہمیت
تحقیقات میں واضح کیا گیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969ء پاکستان کسٹمز کو اسمگل شدہ یا غیر ڈیوٹی ادا شدہ گاڑیوں کو حراست میں لینے، ضبط کرنے، مقدمہ چلانے اور نیلام کرنے کا اختصاصی اختیار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راشد لطیف خان یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کانفرنس 2025 کا انعقاد، ممتاز اداروں کی شرکت
قانونی دائرہ اختیار کی پامالی
صوبائی ادارے اب بھی اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کر رہے ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں میں واضح کیا گیا ہے۔ این سی پی گاڑیوں کو پولیس کے حوالے کرنا، کسٹمز ایکٹ 1969ء کے خلاف ہے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: الامین اکیڈمی جہاں CSS کی تیاری بالکل مفت کروائی جاتی ہے
صوبائی و وفاقی تعاون کی کمی
ایف ٹی او نے مشاہدہ کیا کہ کسٹمز کلیکٹریٹس بارہا صوبائی حکام سے ضبط شدہ گاڑیوں کی حوالگی کے لیے رابطہ کر رہے ہیں، تاہم عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت وفاقی قانون کو برتری حاصل ہوتی ہے، جس کی روشنی میں ایف ٹی او نے قرار دیا کہ زیر حوالہ صوبائی قواعد آئین سے متصادم اور کسٹمز ایکٹ 1969ء کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ 89 ہزار 834 ارب تک پہنچ گیا
قانون سازی کا اختیار
ایف ٹی او کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق امور پارلیمنٹ کے خصوصی قانون سازی اختیار میں آتے ہیں، لہٰذا اس ضمن میں کوئی بھی صوبائی قانون سازی یا ضابطہ غیر مؤثر اور کالعدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آٹھ گھنٹے میں پانچ پرچے: ایک ایسا مشکل امتحان جس کے لیے پورا ملک رک جاتا ہے
بدانتظامی پر توجہ
ایف ٹی او نے نشاندہی کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان قانونی و انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا، جو بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفر آباد کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
اقدامات کی ہدایت
ایف ٹی او نے سیکرٹری ریونیو ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممبر کسٹمز کو ہدایت دیں کہ وہ صوبائی قوانین کو منسوخ کرنے کے اقدامات کریں اور ضبط شدہ گاڑیوں کو کسٹمز ایکٹ کے مطابق حوالہ کریں۔
عملدرآمد کی رپورٹ طلب
ایف ٹی او نے ان ہدایات پر 90 دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ اقدام قانونی خامیوں کے ازالے، گورننس میں بہتری، وفاقی محاصل کے تحفظ اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔








