پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام، غیرقانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کیس میں گینگ وار سرغنہ عزیر بلوچ کو بری کر دیا گیا۔
کراچی کی عدالت کا فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو باعزت بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ معدنیات پنجاب نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد سے رقم وصول کرلی
پراسیکیوشن کی ناکامی
ایکسپریس نیوز کے مطابق پراسیکیوشن گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کے خلاف سہولت کاری کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر ملزم عزیر جان بلوچ کو مقدمے سے بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں کرپشن کی مد میں کتنے سو ارب روپے برآمد کیے گئے؟ قومی احتساب بیورو کے تہلکہ خیز انکشافات
وکیل صفائی کا موقف
وکیل صفائی حیدر فاروق جتوئی نے موقف دیا تھا کہ ملزم عزیر بلوچ کے خلاف کسی قسم کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔ عزیر بلوچ بے قصور ہے، اسے مقدمہ سے بری کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم انتظار کررہے تھے، جیسے ہی بھارتی جہازوں نے میزائل چلائے، ہمارے شاہینوں نے پانچ طیارے مارگرائے: وزیراعظم کا اسمبلی میں خطاب
پولیس کا اقبالی بیان
پولیس کے مطابق، ملزم عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحے کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ ملزم کے بیان پر عزیر بلوچ کے خلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم سے بارود اور گولیاں برآمد کی گئی تھیں۔
مقدمات کا پس منظر
ملزمان کے خلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔








