پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام، غیرقانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کیس میں گینگ وار سرغنہ عزیر بلوچ کو بری کر دیا گیا۔
کراچی کی عدالت کا فیصلہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو باعزت بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتوں کو ہتھیار بنا کر ہمیں کیوں نکال رہے ہیں؟ ہم یہاں حادثاتی نہیں عوامی ووٹوں سے آئے ہیں، سینیٹر علی ظفر
پراسیکیوشن کی ناکامی
ایکسپریس نیوز کے مطابق پراسیکیوشن گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کے خلاف سہولت کاری کا جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر ملزم عزیر جان بلوچ کو مقدمے سے بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر جنگ ہوئی تو نتائج صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے: بلاول بھٹو
وکیل صفائی کا موقف
وکیل صفائی حیدر فاروق جتوئی نے موقف دیا تھا کہ ملزم عزیر بلوچ کے خلاف کسی قسم کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔ عزیر بلوچ بے قصور ہے، اسے مقدمہ سے بری کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد یونیورسٹی، میوزیکل نائٹ کیخلاف احتجاج کرنیوالے 7 طلبا کا داخلہ منسوخ
پولیس کا اقبالی بیان
پولیس کے مطابق، ملزم عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحے کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ ملزم کے بیان پر عزیر بلوچ کے خلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم سے بارود اور گولیاں برآمد کی گئی تھیں۔
مقدمات کا پس منظر
ملزمان کے خلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔








