لاہور ہائی کورٹ کا لاپتہ اور اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی کے لئے ایس او پیز بنانے کا حکم
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا بڑا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے لاپتہ اور اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی کے ایس او پیز بنانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پاور سیکٹر اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنا: ورلڈ بینک
فوزیہ بی بی کی بازیابی کی درخواست
لاہور ہائیکورٹ میں کاہنہ کے علاقے سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار حمیداں بی بی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں بیٹی کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں جانی نقصان کے بعد پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے الرٹ جاری کردیا
آئی جی پنجاب کا بیان
عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، "آئی جی صاحب بتائیں، یہ کون سے جن تھے جو بچی کو اغوا کر کے لے گئے؟" جس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ "یہ جن انسان نما تھے جو بچی کو لے کر گئے۔"
یہ بھی پڑھیں: Muslim Nations Must Step Up in Support of Palestinians Against Israel: Hafiz Naeem
فوزیہ بی بی کا ریکارڈ
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ فوزیہ بی بی کا نادرا میں کوئی ریکارڈ رجسٹرڈ نہیں تھا اور وہ 2019 میں اپنے گھر سے مبینہ طور پر اغوا ہوئی۔ صغراں بی بی نامی خاتون سے بچی کی فون پر بات چیت ہوئی تھی جبکہ بچی کے استعمال کردہ تمام موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا چھوڑنے والے غیرقانونی تارکین وطن کو رقم اور ٹکٹ فراہم کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
تفتیش کی مزید ضرورت
ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ لاوارث لاشوں کی شناخت کے لیے بھی ٹیسٹ کیے گئے، تمام شیلٹر ہومز اور ایدھی سینٹرز میں چیکنگ کرائی گئی، لیکن بچی نہیں ملی۔ ایسے گروہ موجود ہیں جو بچیوں کو پنجاب سے اغوا کر کے سندھ اور بلوچستان لے جاتے ہیں، جبکہ فیس بک اور دیگر سوشل ایپس کے ذریعے بچیوں کو ورغلا کر لے جایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی نئی ٹیرف پالیسی سے ایپل آئی فون کی قیمتوں میں 43 فیصد تک اضافے کا خدشہ
عدالت کی ہدایات
آئی جی پنجاب نے عدالت سے مزید وقت دینے کی استدعا کی تاکہ تازہ رپورٹس کی بنیاد پر مزید تفتیش مکمل کی جا سکے۔ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ مسنگ پرسنز اور بچے بچیاں اگر کوئی بھی اغوا ہو تو اس کے ایس او پیز بنائے جائیں۔
سماعت کا فیصلہ
عدالت نے آئی جی پنجاب کی استدعا منظور کرتے ہوئے فوزیہ بی بی کی بازیابی کے لیے 10 روز کی مہلت دے دی اور سماعت 6 نومبر تک ملتوی کردی۔








