صاحب کہنے لگے یار اچھا نہیں لگتا کہ سب بیگمات کے ساتھ آئے ہیں جبکہ ہم اکیلے۔ مار پڑے گی اُسے۔ آپ کو آ نا ہی نہیں چاہیے تھا.

مصنف کا تعارف

شہزاد احمد حمید
قسط: 327

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی لیجنڈری گلوکار حسن جہانگیر کا انڈین فلم دھرندر کی ٹیم سے ہوا، ہوا گانے کیلئے 50ہزار ڈالر وصول کرنے کا انکشاف

اکبر نورجہاں کا لیزر شو

اکبر نورجہاں کے لیزر شو کا اہتمام خاص طور پر سیکرٹریٹ میں محکموں کے سیکرٹریوں کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ مہمان خصوصی موجود تھے۔ شام کو جب ہم پہنچے تو تمام سیکرٹری اپنی بیگمات کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ صاحب نے کہا، "یار اچھا نہیں لگتا کہ سب بیگمات کے ساتھ آئے ہیں جبکہ ہم اکیلے ہیں۔ آپ فون کر کے بیگم صاحبہ کو بلا لیں۔" وہ بھی آ گئیں۔ بشریٰ گردیزی بھی وہاں موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ٹیسٹ چیمپئن شپ رینکنگ میں بہتری

میڈم سے ملاقات

میں نے پوچھا، "میڈم آپ کیسے ہیں؟" انہوں نے جواب دیا؛ "مجھے سیکرٹری ہوم نے بلایا تھا۔ اب نظریں نہیں ملا رہا۔ ویسے روز مجھے کافی کے لئے فون کرتا تھا۔" میں نے کہا؛ "میڈم! وہ تو اپنی بیگم کے سامنے آپ سے بات نہیں کر سکتا، مار پڑے گی اُسے۔ آپ کو آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔" خیر، ان کے آنے کا مجھے فائدہ ہوا کہ مجھے ان کی کمپنی مل گئی تھی۔ میری قسمت!

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی خاتون رہنما صائمہ خالد نے سینیٹ ضمنی انتخاب کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا

ڈی جی کے دفتر کا دورہ

میڈم ایک بار صاحب سے ملنے کمپلیکس کے دفتر آئیں۔ اسمبلی کا اجلاس شروع تھا۔ جب ہم جانے لگے تو میڈم نے کہا؛ "سر! مجھے ڈی جی لوکل گورنمنٹ سے کام ہے۔" صاحب نے مجھے کہا؛ "شہزاد صاحب! میڈم کو ڈی جی سے ملوا کر اسمبلی آ جائیں۔" ہم ڈی جی کے دفتر پہنچے، وہاں قہوہ پیا اور دو منٹ بات کی۔ واپسی کے لئے لفٹ میں سوار ہوئے تو دوبارہ ان نگاہوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں پولیس کانسٹیبل اہل خانہ کے سامنے قتل، مسلح افراد نے گھر کو آگ لگادی

ریٹائرنگ روم کی گفتگو

میں نے نائب قاصد سے کہا؛ "بیٹا! میڈم کی گاڑی لگواؤ۔" وہ بولیں؛ "مجھے ابھی کچھ دیر رکنا ہے۔" ہم ریٹائرنگ روم چلے گئے۔ وہاں انہوں نے کچھ دیر مبہم گفتگو کی۔ چند منٹوں کی یہ تاکا جھانکی ختم ہونے پر وہ ناراضگی میں اٹھیں اور جاتے ہوئے ایک فقرہ کہہ کر گاڑی میں سوار ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: حالیہ صورتحال انتہائی نازک، پاکستان علاقائی ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے،ہمارے پاس افغان سرزمین سے دہشتگردی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں:وزیر خارجہ کی غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ

اسمبلی میں واپسی

اسمبلی پہنچ کر صاحب کو بتایا تو وہ بولے؛ "میں آپ کی سادگی کا ماتم ہی کر سکتا ہوں۔" میں نے کہا؛ "سر! میں ڈر گیا تھا کہ کہیں انہوں نے کہہ دیا 'شہزاد صاحب! سفید بالوں کا ہی خیال کر لیتے' یا وہ آپ کو شکایت لگا دیتیں، تو میرے پلے کیا رہ جاتا۔ میں تو عمر بھر آپ سے آنکھ نہ ملا سکتا۔" مشہود کو امریکہ میں بات کر کے یہ قصہ سنایا تو زور سے ہنسا اور کہا؛ "آپ کی بدقسمتی ہی کہہ سکتا ہوں۔"

اختتام

ان کے میاں نے دوسری شادی کر لی۔ وزیر کی والدہ نے اپنی دوسری بہو کو قبول نہیں کیا، لیکن ہمارے معاشرے میں عورت دوسری بیوی برداشت نہیں کرتی۔ میڈم کے لئے یہ ناقابل برداشت تھا اور اس کے بعد وہ تنہائی میں کہیں کھو گئیں۔

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...